menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Barhak Ka Badshah

15 1
05.01.2026

31 جنوری، 1923میں پیدا ہونے والا بچہ سادات گھرانے کاچشم و چراغ تھا۔ نام سید منور علی شاہ رکھا گیا۔ ایف اے تک تعلیم بڑی مشکل سے مکمل کی۔ گوالمنڈی لاہور کا رہائشی یہ بچہ، کسی بھی علت کا شکار نہیں تھا۔ صاف ستھری سی زندگی اس کا عملی رویہ تھا۔ پاکستان بننے سے پہلے کی بات ہے۔ منور، برطانوی پولیس میں بھرتی ہوگیا۔ حد درجہ ایماندار اور اصول پسند تھا۔ تھوڑے ہی عرصے میں ترقی کرتے کرتے، سب انسپکٹر کے عہدے پر فائز ہوگیا۔ سفارش بالکل نہیں مانتا تھا۔ ایک دن، لاہور رینج کے ڈی آئی جی نے دفتر طلب کیا۔ کوئی ایسا کام کرنے کو کہا، جو میرٹ کے خلاف تھا۔ منور نے حکم ماننے سے صاف انکار کر دیا۔

علم تھا کہ اب سینئر افسر اسے معطل کر دے گا۔ منور، بڑے اطمینان سے اپنے تھانہ میں گیا۔ ہاتھ سے استعفیٰ لکھا اور گھر چلا آیا۔ یہ سرکاری نوکری کا اختتام تھا۔ بیکاری کے دنوں کی ہی بات ہے۔ منور کا ایک واقف یا شاید عزیز، ایک اردو فلم بنا رہا تھا۔ اسے، ایک ایسے ایماندار انسان کی ضرورت تھی جو اخراجات کا درست حساب رکھ سکے۔ پیسوں کے لین دین کے حوالے سے بالکل صاف ستھرے کردار کا مالک ہو۔ اس نے منور کو اسٹوڈیو میں بلایا۔ فلم کے اخراجات کا تخمینہ اور خرچ اس کے حوالے کر دیا۔ تھوڑے عرصے میں، اس پروڈیوسر نے محسوس کیا، کہ منور کی آواز میں بڑی گرج ہے۔

وہ بڑے تحکمانہ انداز سے لوگوں سے بات کرتا ہے۔ لہجہ بھی حد درجہ مختلف انداز کا ہے۔ منور کو بلا کر کہا، کہ میری بننے والی فلم میں ایک چھوٹا سا کردار ہے۔ کیا تم اسے نبھا پاؤ گے؟ منور نے ہاں کر دی اور وہ رول اسے مل گیا۔ جب منور نے سیٹ پر اپنی گرجدارآواز سے مکالمہ ادا کیا، تو سب حیران رہ گئے۔ اس جیسی پاٹ دار آواز، کسی نے بھی پہلے نہیں سنی تھی۔ ہدایتکار بھی ششدر رہ گیا۔ فلم تو خیر فیل ہوگئی۔ مگر منور کی ایکٹنگ اور صوتی اثرات نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔

فلمی دنیا میں نام تبدیل کرنے کی روایت موجود تھی۔ پروڈیوسر نے نام منور شاہ سے مظہر شاہ رکھ دیا۔ یہ وہی مظہر شاہ تھا، جس کے مقابلے کا ولن، برصغیر میں دوبارہ کبھی پیدا نہیں ہو سکا۔ اس........

© Daily Urdu