menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Autism

20 0
17.08.2026

کتاب کا ایک اور حصہ جو اس بحث کو ایک بالکل نیا رخ دیتا ہے وہ ہے گمشدہ تاریخ کا تصور۔ وہ تاریخ جسے کبھی لفظوں میں قید نہیں کیا گیا جیسا کہ جنت کی تاریخ والا حصہ۔ وہ حصہ تو بہت دلچسپ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جغرافیائی دریافتوں نے انسانی سوچ اور عقیدوں کو کیسے بدلا۔ اٹلی کے جہازران میں ریگو بس کو نے جب برازیل میں نیا ان دیکھا علاقہ دریافت کیا جہاں سرسبز درخت تھے۔ یہ واقعہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ انسان کے خیالات اور اس کے تصورات اور میتھالوجیکل عقائد نئے تجربات کے ساتھ کیسے بدلتے ہیں اور دیکھیں یہ تصور کسی ان دیکھی جنت تک محدود نہیں ہے۔

گمشدہ تاریخ میں ان اشخاص کا ذکر بھی آتا ہے جنہوں نے کبھی بڑی عمارتیں مینار یا قلعے تعمیر نہیں کیے۔ جیسا کہ خانہ بدوش قبیلے روایتی تاریخ میں ان خانہ بدوشوں کا ذکر نہ ہونے کے برابر ملتا ہے۔ کیونکہ ان کی موجودگی کا کوئی ٹھوس ثبوت مورخین کو نہیں ملتا۔ کیونکہ انھوں نے کوئی محل یا قلعہ بنایا ہی نہیں تھا۔ ایک سچا مورخ صرف ٹوٹے ہوئے کھنڈرات نہیں ڈھونڈتا بلکہ وہ ان لفظوں اور آوازوں کو بھی سنتا ہے جو سینہ بہ سینہ گیتوں کے ذریعے سے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی ہیں۔ یہ خیال کتنا عظیم ہے کہ تاریخ صرف پتھروں اور قلعوں........

© Daily Urdu