Naya Khayal, Nai Soch: Muasharti Jamood Aur Takhleeqi Inqilab

نیا خیال، نئی سوچ: معاشرتی جمود اور تخلیقی انقلاب

کسی دانا کا قول ہے کہ اگر آپ ہمیشہ وہی کام کرتے رہیں گے جو آپ آج تک کرتے آئے ہیں، تو آپ کو نتیجہ بھی ہمیشہ وہی ملے گا جو آج تک ملتا آیا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی تبدیلیاں، ایجادات اور فکری انقلابات آئے ہیں، ان کے پیچھے ہمیشہ ایک ہی محرک رہا ہے اور وہ ہے "نیا خیال اور نئی سوچ"۔ جب تک کوئی انسان یا کوئی معاشرہ روایتی مائنڈ سیٹ کی لکیر کو پیٹنا بند نہیں کرتا اور پرانے، فرسودہ راستوں سے ہٹ کر کچھ نیا سوچنے کا حوصلہ نہیں کرتا، تب تک وہ ترقی کی دوڑ میں دنیا سے پیچھے رہ جاتا ہے۔ جمود موت ہے اور حرکت زندگی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس وقت فکری جمود کا شکار ہے، جہاں نئی سوچ کو اپنانے کے بجائے پرانی ڈگر پر چلنے کو ہی عافیت سمجھا جاتا ہے۔

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل میڈیا نے دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ پرانے زمانے کے روزگار، کاروبار اور یہاں تک کہ لکھنے پڑھنے کے طریقے بھی اب تبدیل ہو رہے ہیں۔ ایسے میں اگر ہماری نئی نسل اب بھی پچیس سال پرانے نظریات اور روایتی طریقوں سے چمٹی رہے گی، تو ہم عالمی سطح پر مقابلہ کیسے کریں گے؟ اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات........

© Daily Urdu