menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mulaquat Ka Matam: Jab Sulaghte Lamhon Mein Habib Jalib Ki Begum Unse Jail Mein Mileen

29 0
04.10.2026

ملاقات کا ماتم: جب سلاخوں کے پیچھے ایک سچّے قلم کار کا گھرانہ رویا

​تاریخ شاہد ہے کہ جب جب کسی عہد کے جابر حکمرانوں نے حق اور سچ کی آواز کو دبانے کے لیے قید خانے کی سیاہ دیواروں کا سہارا لیا، تب تب اُن دیواروں کی دراڑوں سے انقلاب کی نئی کرنیں پھوٹیں۔ پاکستان کی سیاسی اور ادبی تاریخ میں حبیب جالبؔ ایک ایسے بیدار مغز، سرکش اور باوقار قلم کار کا نام ہے، جس نے اقتدار کے ایوانوں، شاہی محلوں اور آمریتوں کے سامنے کبھی اپنے قلم کا سودا نہیں کیا۔ وہ عوام کی آواز تھے، غریبوں کے جذبات کے ترجمان تھے اور بے بس طبقے کی للکار تھے۔ لیکن اس انقلابی چہرے کے پیچھے ایک نازک، حساس اور درد مند انسان بھی چھپا تھا، جس نے جبر کی قیمت صرف خود نہیں بھگتی، بلکہ اس کا پورا خاندان اس قربانی کے ان گنت باب رقم کرتا رہا۔

​حبیب جالبؔ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ شاہی قلعے کی تاریک کوٹھڑیوں اور مختلف جیلوں کی قیدِ با مشقت میں گزارا۔ جب ایک بیدار مغز شاعر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے، تو دنیا اسے صرف ایک 'شاعرِ انقلاب' کے طور پر دیکھتی ہے، لیکن اس قید خانے کے باہر اس کی شریکِ حیات، اس کے معصوم بچے اور اس کا بکھرتا ہوا گھرانہ جس معاشی اور نفسیاتی کرب سے گزرتا ہے، اس کا اندازہ شاید ہی کوئی کر پائے۔

​ایک روز جب حبیب جالبؔ جیل میں قید تھے، تو ان کی بیگم اپنے بچوں کے مسائل، گھر کے فاقوں اور خانگی پریشانیوں کا بوجھ دل میں لیے ان سے ملنے جیل پہنچیں۔ جیل کے اُس بے حس ماحول میں، جہاں ایک طرف لوہے کی بھاری سلاخیں اور دوسری طرف پہرے داروں کی سخت نگاہیں تھیں، ایک شوہر اور بیوی کا سامنا ہوا۔ بیگم جالب........

© Daily Urdu