Ehsan Ka Qarz Aur Tareekh Ka Katehra

احسان کا قرض اور تاریخ کا کٹہرا

یہ ستمبر 1986 کی ایک سسکتی ہوئی صبح تھی، جب کراچی ایئرپورٹ کے ٹارمک پر کھڑے پین ایم فلائٹ 73 کے اندر موت اپنے پر پھیلا رہی تھی۔ جہاز کے اندر 380 مسافروں کی سانسیں حلق میں اٹی ہوئی تھیں اور سامنے کلاشنکوفیں تانے دہشت گرد کھڑے تھے۔ اس ہولناک منظر میں ایک 23 سالہ لڑکی، نیرجا بھانوٹ، صرف ایک فلائٹ اٹینڈنٹ نہیں تھی، وہ اس وقت انسانیت کی آخری پناہ گاہ بن چکی تھی۔ اس کی ماں نے اسے نصیحت کی تھی، "بیٹی، اگر کبھی جہاز ہائی جیک ہو جائے تو اپنی جان بچا کر بھاگ نکلنا"۔ لیکن اس نڈر بیٹی کا جواب تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن گیا: "ماں! مر جاؤں گی، لیکن بھاگوں گی نہیں"۔

اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اس نے کر دکھایا۔ 17 گھنٹے تک موت کے سائے میں مسافروں کو پانی اور حوصلہ دینے والی اس لڑکی نے جب دیکھا کہ دہشت گرد امریکیوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں، تو اس نے کمالِ ہوشیاری سے امریکی پاسپورٹ چھپا دیے۔ جب گولیاں چلنا شروع ہوئیں، تو وہ پہلے خود نکل سکتی تھی، لیکن وہ رک گئی۔ وہ تین معصوم بچوں کو ایمرجنسی گیٹ سے باہر دھکیل رہی تھی کہ ایک دہشت گرد نے اسے بالوں سے پکڑا اور اس کے سینے میں گولیاں اتار دیں۔ نیرجا مرگئی، لیکن وہ تین بچے بچ گئے۔

آج ان تینوں بچوں میں سے ایک بچہ دنیا کی نامور ایئر لائنز میں کیپٹن ہے۔ وہ جب بھی کاک پٹ میں بیٹھتا ہے، تو اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ وہ کہتا ہے، "میری رگوں میں دوڑنے والا خون نیرجا کا قرض ہے، میں نے پائلٹ بننے کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ........

© Daily Urdu