Venezuela Par Pani Gadla Karne Ka Ilzam

پہاڑ کی اونچائی پر کھڑے بھیڑیے کو گھاٹی کے چشمے سے پیاس بجھاتابھیڑ کا بچہ "پانی گدلا" کرتا ہی نظر آتا ہے۔ لاطینی امریکہ کا وسیع تر رقبے مگر تین کروڑ کی آبادی والا ایک ملک (وینزویلا) بچپن میں سنی کہانی میں بیان کردہ بھیڑ کا بچہ نہیں ہے۔ اسے معصوم بھی گردانا نہیں جاسکتا۔ دنیا بھر میں دریافت ہوئے تیل کے ذخائر میں سے 20فی صد کا واحد مالک ہونے کے باوجود اس ملک کا حکومتی بندوبست عوام کو تیل کی فروخت سے حاصل ہوئی بے پناہ آمدنی سے ترقی، خوشحالی اور استحکام کی راہ پر ڈالنے میں ناکام رہا۔

1999 میں یہاں ایک سابق فوجی سیاست میں داخل ہوا تو "قابل قبول سوشل ازم اور معاشرے میں مساوات" یقینی بنانے کے نام پر بے پناہ اکثریت سے منتخب ہوگیا۔ ہوگو شاویز اس کا نام تھا۔ تیل کی آمدنی کو تخلیقی ذہن سے غربت کے خاتمے کے لئے بنائے طویل المدت منصوبوں پر خرچ کرنے کے بجائے اس نے عوام کو خیرات کا عادی بناتے ہوئے اشرافیاں لٹانے والے بادشاہ کا روپ اختیار کیا۔

وینزویلا سے لاکھوں میل دور بیٹھے اور لاطینی امریکہ کی تاریخ وثقافت سے قطعی ناواقف مجھ جیسے سادہ لوح مگر اس کے گرویدہ ہوگئے۔ وجہ اس کی صرف یہ تھی کہ وہ دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتے ملک کے پچھواڑے میں موجود ہوتے بھی اسے خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ طاقتور کو محض جرأت سے للکارنے والے افراد ہم سادہ لوح عوام کے ہیرو ہوا کرتے ہیں اور ہوگو شاویز میں غریبوں سے محبت کرنے والے حاتم طائی نما ہیرو کی خصوصیات بہت نمایاں تھیں۔ 2013میں لیکن وہ سرطان جیسے موذی مرض کا شکار ہوکر جہان فانی سے رخصت ہوگیا۔

اس کی جگہ نکولس مادورو نامی معاون نے لی۔ خود کو شاویز سے بھی دو قدم آگے بڑھ جانے کی خواہش میں وہ تیل کی قیمت عالمی منڈی میں گرجانے کے باوجود وینزویلا کو مزید "سوشلسٹ" اور "سامراج دشمن" بنانے کو ڈٹ گیا۔ ٹھوس بنیادوں کے بغیر محض تیل کی فروخت سے حاصل ہوئی آمدنی کی خیرات عوام کو مطمئن رکھنے میں بتدریج ناکام ہونا شروع........

© Daily Urdu