Motabari Ka Mayar Bana Shadi Ka Dawat Nama |
جی ہاں گزرے جمعہ سے بدھ کی صبح تک تین دن یہ کالم نہیں چھپا۔ چند دن قبل مگر نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کردیا تھا کہ دل ضرورت سے زیادہ دھڑکنا اور بلڈپریشر بے قابو ہونا شروع ہوگیا ہے۔ ان سے نبردآزما ہوتے ہوئے ہفتے کے پانچ دن صبح اٹھتے ہی یہ کالم لکھنا شاید کچھ دنوں تک ممکن نہ رہے۔ بحالی صحت کی کاوشیں نہار منہ لیبارٹری جاکر خون دینے کا تقاضہ بھی کرتی ہیں۔ اس کے بعد جس بھی نوعیت کے ٹیسٹ ہوئے ان کے نتائج عموماََ تسلی بخش ہی آئے۔ صبح اٹھتے ہی قلم اٹھانے کے بجائے لیبارٹری کا رخ اور وہاں خون دینے کے لئے باری کا انتظار کرتے ہوئے لیکن زندگی کی بے ثباتی کا احساس تنگ کرتا ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے اپنے گرانقدر خیالات کے ذریعے قارئین کی "ذہن سازی" کو جی مائل نہیں ہوتا۔
"خبر" ویسے بھی ہمارے ہاں محدود سے محدود تر حلقوں تک سمٹنا شروع ہوگئی ہے۔ ہماری قسمت کے فیصلے کرنے والے "جاہل عوام" اور ان کے نمائندوں سے وسیع تر مشاورت کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ انہیں یقین ہے کہ فقط انہیں علم ہے کہ قوم کو خوش حالی اور استحکام کے لئے کیا درکار ہے۔ مشاورت میں وقت ضائع کرنے کے بجائے وہ اپنے تئیں ملک وقوم کے وسیع تر مفاد میں کئے فیصلوں پر یکسوئی سے عملدرآمد پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔ صحافیوں کو ان کلیدی فیصلوں کی بھنک بھی نہیں پڑتی۔ تھوڑا علم ہو جائے تب بھی نامکمل معلومات کی بنیاد پر کلیدی فیصلوں پر تبصرہ آرائی کی جرأت نہیں ہوتی۔ بھاشن فروشی سے ڈنگ ٹپالیا جاتا ہے۔
روپے کی ڈالر کے مقابلے میں گراوٹ کی وجہ سے اخبار چھاپنے کے لئے جو کاغذ اور سیاہی درکار ہے اس کی قیمت ناقابل برداشت ہوچکی ہے۔ اسی باعث اخبارات 6سے 8صفحات تک سکڑنا شروع ہوگئے ہیں۔ ان کی فروخت سے اس کے باوجود اخبار چھاپنے کا خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا۔ اخباری اداروں کو حکومت کی طرح "خسارے کا بجٹ" بنانا پڑرہا ہے۔........