Modi Sarkar Ki Musalman Aur Pakistan Dushmani Ki Bharkai Aag

مودی سرکار کی مسلمان اور پاکستان دشمنی کی بھڑکائی آگ

لوگ کیا پڑھنا، دیکھنا اور سننا چاہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب دورِ حاضر میں چند گھنٹوں کی تحقیق کے بعد بآسانی ڈھونڈا جاسکتا ہے اور اس کے لئے آپ کو کسی لیبارٹری یا لائبریری میں جانے کی ضرورت نہیں۔ اپنے گھر ہی کے کسی گوشے میں تنہا بیٹھ کر موبائل فون کھولیے۔ اسے کھولنے کے بعد سوشل میڈیا کے ان پلیٹ فارم پر چلے جائیں جہاں پوسٹ ہوئی تصاویر، مضامین یا ویڈیوز کو شیئر یا لائک کرنے کے آپشن موجود ہوتے ہیں۔ چند ہی گھنٹوں میں کچھ عنوانات کے ذکرکے بعد سرچ کا بٹن دبائیں اور سمجھ آجائے گی کہ سوشل میڈیا پر کیا بک رہا ہے۔

ہفتے کے پانچ دن ہر صبح نوائے وقت میں یہ کالم چھپتے ہی اسے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم کے لئے بنائے ذاتی اکائونٹس پر پوسٹ کردیتا ہوں۔ علاوہ ازیں نوائے وقت کی ویب سائٹس پر چھپے کالم کو بھی ری پوسٹ کرنے کی عادت ہے۔ گزشتہ دو مہینوں سے جب بھی فرصت ملی تو اپنے ہی نہیں دیگر دوستوں کے مختلف اخبارات کے لئے لکھے کالموں پر لوگوں کے تبصروں سے زیادہ یہ جاننے کی کوشش کررہا ہوں کہ کس موضوع پر لکھے کس دوست کے کونسے کالم کو شیئرز اورلا ئیکس کے حوالے سے زیادہ پذیریائی میسر ہوئی۔

مقصد اس مشق کا لاشعوری طورپر ایسے موضوعات تلاش کرنا ہوسکتا ہے جن پر لکھا جائے تو قارئین کی کثیر تعداد اسے توجہ سے پڑھے گی۔ شعوری طورپر لیکن میرا یہ مقصد نہیں تھا۔ عمر کے اس حصے میں پہنچ چکا ہوں جہاں ستائش کی تمنا نہیں رہی۔ عوامی پذیرائی سے زیادہ دیانتداری سے یہ چاہتا ہوں کہ عمر تمام صحافت کی نذر کرینے کی بدولت جمع ہوئے تجربات ومشاہدات قلم بند کردوں۔ اسے پڑھ کر ہاتھ کی انگلیوں کے برابر چند افراد بھی کچھ ٹھوس سبق یا نتائج ا خذ کرکے آئندہ نسلوں کو منتقل کرنا چاہیں تو جی کو تسلی ہوجائے گی۔

اتفاق یہ بھی ہوا کہ کل وقتی صحافت بہت چائو سے اختیار کرنے کے چند ہی برس بعد مجھے 1984ء میں پہلی بار بھارت........

© Daily Urdu