Mere Ilm Mein Na Aane Wali Meri Agenti
رنگ میں بھنگ ڈالنے کا مجھے کوئی شوق نہیں۔ ویسے بھی حکمران خواہ وہ کسی بھی دور کے ہوں صحافیوں سے توقع باندھتے ہیں کہ وہ اچھی خبریں دیں۔ توقع کا لفظ میں نے احتیاطاََ لکھا ہے۔ توقع کو حکم کا متبادل تصور کریں۔ خواہش یہ بھی ہوتی ہے کہ عوام میں مایوسی نہ پھیلائی جائے۔ مایوسی پھیلانا ویسے بھی اسلام میں کفر کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے حکمران دیگر شعائر پر عمل نہ کریں تب بھی عوام میں مایوسی پھیلانے والوں کا مکو ٹھپنے سے باز نہیں آتے اور مجھے زندہ رہنے کے لئے لکھنا ضروری ہے اور لکھنا بھی حکومت کے دئیے ڈیکلریشن سے نکالے اخبار میں ہے۔ ایسے اخبار کو اشتہار ملتے ہیں اور اشتہاروں کی بدولت میری تنخواہ کا حصول یقینی ہوجاتا ہے۔
میرا اگرچہ بس چلے تو اخباروں میں "اچھی" خبریں شائع کروانے کو بے چین طاقتوروں سے تنہائی میں چند گھنٹے ملاقات کروں۔ صحافت کو پچاس برس دے چکا ہوں۔ نصف صدی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ہمارے ہاں آج تک کوئی حکومت اخبار میں شائع ہوئی کسی خبر یا کالم کی وجہ سے زوال کا شکار نہیں ہوئی۔ اس کے اندر ہی سے کسی نے کام دکھایا تو ہم بے وقوفوں کو "عوامی جدوجہد" کے ذریعے "تبدیلی" کا گمان ہوا۔
اخباروں میں لکھنے والوں کے علاوہ شاعر خواتین وحضرات بھی خواہ مخواہ "انقلاب" برپا ہونے کا باعث سمجھے جاتے ہیں۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان کے پہلے دیدہ ور اور فوجی آمر کے دئیے دستور کو "میں نہیں مانتا"والے مصرعہ کے ساتھ ٹھکرانے والے دیوانے -حبیب جالب- نے "بیس روپیے من آٹا اور اس پہ بھی ہے سناٹا" کے بارے میں پریشان کن حیرانی کا اظہار کیا تھا۔ جس سناٹے کا انہوں نے فکر مندی سے مشاہدہ کیا وہ 1968ء کے اواخر تک مگر برقرار رہا۔
بالآخر دیدہ ور جنرل ایوب خان کے ایک نابغے "ماہر ابلاغیات" -الطاف گوہر-........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin