Iran Par Musallat Jang Ke Haqaiq Se La Taluq Mullah Haibatullah |
ایران پر مسلط جنگ کے حقائق سے لاتعلق ملّا ہیبت اللہ
پاکستان میں کئی دہائیاں روپوش وپناہ گزیں رہا افغان طالبان کا قائد ملاہیبت اللہ اگست2021ء میں بطور فاتح اپنے وطن لوٹ گیا۔ وہاں کے دارلحکومت میں قیام کے برعکس وہ طالبان کے "روحانی مرکز" قندھار ہی میں ٹکے رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ "اسلامی اماراتِ افغانستان" کے حکومتی ڈھانچے میں نظر بظاہر وہ کسی کردار کا حامل نہیں۔ بطور امیر مگر اس کی منشاء اور منظوری کے بغیر افغان طالبان کی حکومت سانس بھی نہیں لے سکتی۔
وسیع تر تناظر میں اس کا عہدہ اسلامی جمہوریہ ایران کے "رہبراعلیٰ" کے مساوی تصور کیا جاسکتا ہے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ کو تاہم جو اختیارات میسر ہیں وہ 1979ء سے 1989ء تک منتخب ہوتی رہی اسمبلیوں نے طویل مباحثوں کے بعد تحریری آئین میں رقم کئے ہیں۔ ایران کے برعکس ملاہیبت اللہ کے اختیارات طالبان کی غیر منتخب شوریٰ کی جانب سے فراہم کئے گئے ہیں۔ غیر ملکی ہوتے ہوئے اسے ملے اختیارات پر سوالات اٹھانے سے مجھے گریز اختیار کرنا چاہیے۔ موصوف کو مگر "امیر المومنین" پکارا جاتا ہے اور "مومنین" میری ناقص سوچ کے مطابق محض افغانستان تک ہی محدود نہیں۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔
"امیر المومنین" ہونے کے دعوے دار ملاہیبت اللہ نے عیدالفطر کی آ مد کو ذہن میں رکھتے ہوئے پیر کے روز ایک تحریری پیغام لکھا ہے۔ افغان ذرائع ابلاغ کی بدولت اس کی وسیع پیمانے پر تشہیر ہوئی۔ ہر حوالے سے قابل تعزیر گنہ گار ہوتے ہوئے بھی صحافتی جستجو کے ہاتھوں میں "امیر المومنین" ملاہیبت اللہ کے پیغام کا متن ڈھونڈتا رہا۔ اسے تلاش کرلینے کے بعد پرنٹ آئوٹ لیا اور ہاتھ میں قلم لے کر اہم ترین حصوں کو خطِ کشیدہ کے ذریعے........