Insani Rishton Ke Ehteram Ki Alamat Altaf Hassan Qureshi

انسانی رشتوں کے احترام کی علامت الطاف حسن قریشی

تاریخ یاد نہیں رہی مگر 2022ء کے مارچ کا پہلا ہفتہ تھا۔ ایک ٹیلی فون نمبر سے جو میرے لئے نامعلوم تھا کوئی رابطہ کرنا چاہ رہا تھا۔ بالآخر قبولیت کا بٹن دبا کر ہیلو کیا تو دوسری جانب سے نہایت شائستگی سے تصدیق چاہی گئی کہ میں نصرت جاوید ہوں۔ جی ہاں کہا تو "میں الطاف حسن قریشی بول رہا ہوں " کی صدا آئی۔ مزید تعارف کی انہیں ضرورت نہیں تھی۔ ان کے نام اور کام سے سکول کے دنوں سے واقف تھا۔ ان کے متعارف کردہ "اردو ڈائجسٹ" کا باقاعدہ قاری تھا۔

انگریزی کے معروف ماہنامے "ریڈرڈائجسٹ" کی طرح وہ اردو اور عالمی ادب سے ایسی کہانیاں اور مضامین چن کر چھاپتا جو (Reading Light)تفریحی یا وقت گزارنے میں مددگار ثابت ہوتی تھیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمنی یا اٹلی کی قید سے فرار ہوئے جنگی قیدیوں کی داستانیں اور غالباََ جم کاربٹ نامی ایک شکاری کی لکھی کہانیاں میری پسندیدہ تھیں۔ شکار کی کہانیوں میں ایک آدم خور شیر کو کئی دنوں کی محنت کے بعد ہانکے سے گھیر کر بالآخر مچان پر بیٹھا شکاری ٹھکانے لگادیتا تھا۔ بعدازاں 1965ء کی پاک-بھارت جنگ ہوگئی اور اس جنگ کے ختم ہوجانے کے کم از کم تین برس بعد بھی "اردو ڈائجسٹ" میں مختلف محاذوں پر ہوئے معرکوں کی تفصیلی داستانیں شائع ہوتی رہیں۔

الطاف حسن قریشی صاحب مذکورہ جریدے کے مدیر تھے۔ اردو جرائد کے باقاعدہ قارئین میں مقبول ترین۔ بتدریج انہوں نے اہم ترین ملکی سیاستدانوں کے علاوہ غیر ملکی سربراہان کے طویل انٹرویو کا سلسلہ بھی شروع کردیا۔ میٹرک کا امتحان دینے کے بعد لیکن میں "انقلابی " ہوگیا۔ ان کا شائع کردہ رسالہ مجھے امریکی سامراج کی سرپرستی میں انقلابی نظریات کے خلاف پراپیگنڈہ مہم کا "مہلک ہتھیار" محسوس ہونے لگا۔ 1969ء میں فیلڈمارشل ایوب خان کے خلاف احتجاجی تحریک کے انجام پر یحییٰ خان کا مارشل لاء لگ گیا۔ مارشل لاء کے باوجود یحییٰ خان نے نئے انتخابات کا وعدہ........

© Daily Urdu