menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hukumati Halqon Se Sattay Khairanki Umeed

30 0
10.08.2026

حکومتی حلقوں سے سستے خیراں کی امید

نفسیاتی امراض کی ایک قسم انگریزی میں Mood Swings کہلاتی ہے۔ سادہ ترین الفاظ میں اسے اردو کے "پل میں تولہ پل میں ماشہ" کا عملی اظہار سمجھ لیجئے۔ عرصہ ہوا طے کرچکا ہوں کہ ہم بطور قوم اس مرض کا شکار ہیں۔ اپنی بات ثابت کرنے کے لئے کسی اور مثال کی ضرورت نہیں۔ چند ہی دن قبل ملک بھر میں چھائی بے یقینی یاد کرلیجئے جو وفاقی کابینہ کے معتبر وموثر ترین رکن جناب محسن نقوی صاحب نے نہایت اہتمام سے سجائی کاروباری افراد کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھڑکائی تھی۔

نظر بظاہر اپریل 2022ءسے متعارف کردہ حکومتی بندوبست کو انہوں نے اپنے خطاب میں مفلوج ٹھہراتے ہوئے متبادل کی تلاش پر زور دیا۔ ریگولر اورسوشل میڈیا اس کے بعد ہیجانی انداز میں سعادت حسن منٹو کے منگو کوچوان کی طرح "نیا قانون" ڈھونڈنے لگا۔ اضطرابی کیفیات قابو سے باہر ہونے لگیں تو نقوی صاحب ہی نے اپنی پسند کے دو صحافیوں سے "سرِراہ ملاقات" میں وضاحت فرمادی کہ جس نظام کو انہوں نے "گلا سڑا" ٹھہرایا تھا وہ کم از کم سات دہائیوں سے وطنِ عزیز پر مسلط ہے۔ اس کا متبادل تلاش کرنے میں وقت درکار ہے۔ موجودہ بندوبستِ حکومت لہٰذا کہیں نہیں جارہا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اپنی آئینی مدت مکمل کریں گے۔

ایک فلمی گیت کے مطابق جس نے درد دیا تھا (یعنی محسن نقوی صاحب) اسی سے دواپاکر ہم سب کی تسلی ہوگئی۔ ہمارے مطمئن ہونے کے دو یا تین دن بعد وزیر اعظم فیلڈ مارشل سمیت سعودی عرب روانہ ہوگئے۔ وہاں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان بھی تشریف لائے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے مقدس ترین شہر مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین "ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا"والا تاریخی معاہدہ ہوگیا۔ ہم اسے "مسلم نیٹو" کی........

© Daily Urdu