Do Nuqat Par Atka Hua America Aur Iran Ka Mamla |
دو نکات پر اٹکا ہوا امریکہ اور ایران کا معاملہ
ہفتے کی صبح ایک ذاتی مگر جذباتی معاملے کی وجہ سے دن کے کئی گھنٹے چلچلاتی دھوپ کی شدت کو نظرانداز کرتے ہوئے بھاگ دوڑ کرنا پڑی۔ مسئلہ حل نہ ہوا تو جی مزید پریشان ہوگیا۔ مضمحل ہوا بستر پر لیٹا تو جسم بخار سے جلتا محسوس ہوا۔ اتوار کی صبح یہ کالم لکھ کر ہفتے کے آغاز کی عادت سے بازرکھا۔ پیر کی صبح کالم نہ چھپنے کی وجہ سے دیرینہ مہربانوں سے لہٰذا نہایت عاجزی کے ساتھ معافی کا طلب گار ہوں۔
کالم نہ لکھنے کے باوجود کئی دنوں سے سوچ رہاہوں کہ مارچ کے آغاز میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ ہونے کے دن سے مجھ جیسے بے ہنر قلم گھسیٹ عالمی اخبارات میں "ذرائع" کی بنیاد پر چھپی چند خبروں کی بنیاد پر "عالمی امور کے ماہر ہوئے" ایران اور امریکہ جنگ کے بارے میں رواں تبصرہ نگاری میں مصروف ہیں۔ پاکستان نے یہ جنگ بند کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جنگ بندی کے بعد دیرپاامن کی تلاش شروع ہوئی۔ اس تناظر میں بھی ہماری قیادت نے اہم ترین کردار ادا کیا۔ عمر تمام صحافت کی نذر کردینے کی بدولت نہایت اعتماد سے لیکن یہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ پاکستانی صحافیوں میں سے غالباََ ایک فرد کوبھی دیرپاامن کی خاطر ہوئے مذاکرات کے حوالے سے لمحہ بہ لمحہ اور ٹھوس پیشرفت کے بارے میں آگہی میسر نہیں ہے۔ آگہی کا میسر نہ ہونا اس حقیقت کا ٹھوس اظہار ہے کہ فریقین کو لچک دکھانے کو مائل کرنے والی کوششوں کی تفصیلات پاکستان کے چند اہم ترین فیصلہ سازوں کے پاس امانت کی طرح محفوظ ہیں۔
امریکہ اور ایران کے چند صحافی مگر "ذرائع" کے حوالے سے خود کو ہر لمحہ کے بارے میں "باخبر" ثابت کرنا چاہ رہے ہیں۔ اپنی پسند کے بیانیے کی ترویج کے لئے صدر ٹرمپ بذاتِ خود صحافیوں کے ایک مخصوص گروپ کو صبح اٹھتے ہی فون کردیتے ہیں۔ نیویارک پوسٹ کی کیٹلن ڈورنبوس اور ایگزی اوس (Axios) نامی خبررساں ایجنسی کا نمائندہ........