Dhaka Mein Ayaz Sadiq Aur Jay Shankar Musafha Ki Halchal
بدھ کی دوپہر کھانے کے بعد کچھ دیر سونے کے لئے بستر پر لیٹا تو ٹیلی ویڑن سکرین پر بینڈ، باجہ اور بارات کے ساتھ "بریکنگ نیوز" آنا شروع ہوگئی۔ فرطِ جذبات سے مغلوب ہوئی آواز میں اینکر خواتین وحضرات یہ خبر دینا شروع ہوگئے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی تدفین کے روز بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر جب تعزیت کے لئے ڈھاکہ پہنچے تو پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق بھی وہاں موجود تھے۔ ایاز صادق صاحب کو دیکھتے ہی جے شنکر ازخود ان کی جانب بڑھے اور مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھادیا۔ ایاز صاحب بڑھے ہاتھ کوٹھکرانہیں سکتے تھے۔ اپنا ہاتھ بھی بڑھادیا۔ یوں دونوں کے مابین مصافحہ ہوگیا۔ مصافحہ کے بعد ان دونوں میں کیا گفتگو ہوئی اس کے بارے میں خبر دینے والوں کو کچھ علم نہیں تھا۔
جو نظر آیا وہ مگر جے شنکر اور ایاز صادق کے مابین ہوئے مصافحہ کو "اہم" قرار دینے کے لئے کافی تھا۔ مصافحہ کی تصاویر کو سکرین پر دہراتے ہوئے اس پہلو کو بارہا اجاگر کیا گیا کہ گزرے برس کے مئی میں پاکستان اور بھارت کے مابین ہوئی جنگ کے بعد پہلا موقع تھا جب متحارب ممالک کے مابین ایک تیسرے ملک میں اعلیٰ ترین سطح پر خواہ مختصرہی سہی غیر مخاصمانہ رابطہ ہوا۔ اس رابطے کو رپورٹ کرتے ہوئے شاعرانہ استادی کے ذریعے بین السطور یہ پیغام بھی دینے کی کوشش ہوئی کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکرنے پہل نہیں دکھائی تھی۔ ان سے مصافحہ کے لئے قدم اور ہاتھ بھارتی وزیر خارجہ نے بڑھائے۔ مذکورہ پہلو پر توجہ دینے کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ "پہل" بھارت کی جانب سے ہوئی ہے۔ وہ غالباََ پاکستان کے ساتھ تنائو برقرار رکھتے ہوئے تھک گیا ہے۔ اب تعلقات معمول پر لانے کی ر اہ ڈھونڈنے کی کوشش میں........
