menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Deedawar Se Wonder Boy Tak

12 4
06.01.2026

چند روز قبل میرے دوست سہیل وڑائچ نے اپنے مخصوص انداز میں اپنے کالم کے ذریعے یہ عندیہ دیا کہ ہمارے ہاں سیاسی بساط کے خالق کسی "ونڈر بوائے" کی تلاش میں ہیں۔ "بوائے" کا لفظ پڑھا تو گماں ہوا کہ سیاسی بساط پر مہرے بٹھانے والے اب "دیدہ وروں" کی تلاش سے اکتا چکے ہیں۔ "دیدہ ور" کی پیدائش ویسے بھی ہمارے شاعرِ مشرق کے مطابق نرگس کے ہزاروں برس رونے سے قبل ممکن ہی نہیں۔ قیامِ پاکستان کے محض 11سال بعد البتہ کسی نرگس کے آنسو بہائے بغیر ہمارے پہلے "دیدہ ور" نمودار ہوگئے۔

میں ان کے طلوع ہونے کا منظر دیکھنے سے محروم رہا۔ ہوش سنبھالی تو محلے کے بزرگوں سے یہ علم ہوا کہ موصوف کے نمودار ہونے سے پہلے پاکستان نکمے سیاست دانوں کے نرغے میں گھرا ہوا تھا۔ وہ ملک کو استحکام، ترقی اور خوشحالی فراہم کرنے کے منصوبے سوچنے کے بجائے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف رہتے۔ ہمارے پہلے دیدہ ور نے ان سے نجات دلائی تو کھانے پینے کی اشیاء بیچنے والی دوکانوں کو مکھیوں اور گندگی سے محفوظ رکھنے کے لئے جالیاں لگنا شروع ہوگئیں۔ بازار میں مہنگی اشیاء بیچنے والے گھبرا گئے اور ان کے ترازو بھی سیدھے ہوگئے۔

وطن عزیز کے پہلے دیدہ ور کی تعریف سنتے ہوئے مجھے مگر محلے کی دکانوں پر جالیاں لگی نظر نہ آتیں۔ ہمارے محلے کے دو کریانہ فروشوں کے ترازو بھی اکثر مشکوک تصور ہوتے تھے۔ چینی ان دنوں سرکار کے متعارف کروائے راشن ڈپوؤں سے ملاکرتی تھی۔ ہمارے غریب ہمسائیوں کی اکثریت وہاں سے چینی خرید کر ایک دوکاندار کو تھوڑے منافع کے لالچ میں بیچ دیا کرتی۔ سرکاری راشن ڈپو سے خریدی چینی کو مگر خریدنے والا دوکاندار بیچنے والے کے بتائے وزن سے کم بتاتا۔ اس کی وجہ سے دن میں کم از کم دوبار گلی میں مغلظات بھری توتکارسننے کو ملتی۔

دیدہ ور کو اقتدار سنبھالے اگرچہ پانچ برس بھی نہیں گزرے تھے۔ پیدائشی ڈرپوک ہونے کی وجہ سے میں اگرچہ محلے کے بزرگوں سے یہ سوال اٹھانے کی جرات سے محروم تھا کہ دیدہ ور کے نمودار ہونے کے بعد جو نظم انہیں نظر آیا تھا........

© Daily Urdu