Chali Ja Rahi Hai Khuda Ke Sahare
چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے
وفاقی حکومت کا سالانہ بجٹ قومی اسمبلی سے منظوری کے لئے پیش کیے جانے کے ساتھ ہی اسلام آباد کے متحرک صحافی یہ "خبر" دیناشروع ہوجاتے ہیں کہ مذکورہ بجٹ منظور ہوجانے کے چند ہی دنوں بعد وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ چند وزراء کی کارکردگی سے وزیر اعظم خوش نہیں۔ انہیں فارغ کردیا جائے گا۔ اس برس بھی بجٹ تیار ہوتے ہی یہ کہانیاں شروع ہوگئیں۔ عرصہ ہوا پارلیمان روزانہ کی بنیاد پر جانا میں نے چھوڑ رکھا ہے۔
بجٹ اجلاس کے دنوں میں لیکن اپنی شرکت چاہے چند لمحوں ہی کو سہی پریس گیلری میں یقینی بناتا رہا۔ ایک زمانہ تھا کہ اہم وفاقی وزراء پریس گیلری میں مجھ جیسے متحرک رپورٹر کو دیکھ کر اشاروں کی زبان میں ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا کرتے تھے۔ وقت ملتے ہی ہم پریس گیلری سے کھسک کر دوسرے فلور چلے جاتے۔ اسمبلی کے سٹاف کو چٹ لکھ کر وفاقی وزیر کو مطلع کرتے کہ ہم موصوف کے چیمبر میں بیٹھ کر ان کا انتظار کریں گے۔ وفاقی وزیر اپنے کمرے میں جلد ہی تشریف لے آتے۔ تخیلے کا حکم دے کر ون آن ون گپ شپ کے ذریعے دل کی بات لبوں پر لے آتے۔
عمران حکومت کے دوران موجودہ دور کے مسلم لیگ (نون) سے تعلق رکھنے والے وزراء "ووٹ کو عزت "دینے میں اتنے مصروف ہوگئے کہ انہیں صحافیوں کی اوقات بھی دریافت ہوگئی۔ "طاقت کے اصل سرچشموں " سے رسم وراہ........
