Bharti Bangal Mein Mamata Banerjee Ko Dilai Gai Shikast Par Jahan e Fatah
بھارتی بنگال میں ممتا بینر جی کو دلائی گئی شکست پر"جشنِ فتح"
منافقانہ عجزوانکساری سے جان چھڑاکر یاددلانا چاہوں گا کہ چند دن قبل اس کالم میں خبردار کیا تھا کہ بھارتی بنگال صوبائی اسمبلی کے انتخاب نہیں بھونچال کی جانب بڑھ رہا ہے۔ شمالی بھارت میں ہندو اکثریت کا غلبہ مستحکم کرلینے کے بعد نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی اب مغربی بنگال پر ہر صورت قبضہ کرنا چاہ رہی ہے۔ قدیم زمانوں کے غارت گر لشکروں کی طرح اس ہدف کے حصول کے لئے وفاقی حکومت کے تمام تر اختیارات بروئے کار لائے جارہے ہیں۔
گزشتہ کئی برسوں سے ہندو انتہا پسند امریکہ اور یورپ کے نسل پرستوں کی طرح بھارتی عوام کو ٹھوس اعدادوشمار فراہم کئے بغیر یہ کہانی سنائے چلے جارہے ہیں کہ بنگلہ دیش کی غربت سے گھبرا کر وہاں کے مسلمان بھارتی بنگال اور آسام منتقل ہورہے ہیں۔ نقل مکانی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو مغربی بنگال اور آسام آنے والے برسوں میں مسلم اکثریتی علاقوں میں بدل جائیں گے۔ بھارت کے مشرق میں مسلم اکثریت کا وسیع تر خطہ خود کو دلی سے جدا کرنا چاہے گا اور یوں چینی سرحد سے جڑی منی پور اورمیزورام جیسی ریاستوں کو بھی بھارت سے الگ کرلیا جائے گا۔
بنگلہ دیش سے وسیع پیمانے پر نقل مکانی کے تاثر کو بنیاد بناتے ہوئے مغربی بنگال کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کا بے رحمی سے جائزہ لینے کا فیصلہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں 90لاکھ- جی ہاں 90لاکھ افراد کو ووٹ دینے کے نااہل ٹھہرادیا گیا۔ یہ ہرگز اتفاق نہیں تھا کہ ووٹ دینے کو نااہل ٹھہرائے افراد کی بے پناہ اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ مغربی بنگال بھارت کا یوپی کے بعد دوسرا بڑا صوبہ ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد کسی بھی صورت 25فی صد سے کم نہیں۔ چند قصبوں اور محلوں میں وہ بے پناہ اکثریت کے حامل ہیں اور بھارتی بنگال کی صوبائی اسمبلی کے سو سے زیادہ حلقوں........
