Anmol Urf Pinki Ki Tasheer Hamare Bandobast e Hukumat Ki Na Ehli Hai |
انمول عرف پنکی کی تشہیر ہمارے بندوبستِ حکومت کی نااہلی ہے
ہفتے میں پانچ دن صبح اٹھتے ہی یہ کالم لکھتا ہوں۔ سورج ڈھلنے کے بعد پیر سے جمعرات کی شام ایک ٹی وی شو کا میزبان بھی ہوں۔ 1975ءسے سوائے صحافت کے آمدنی کا اور کوئی ذریعہ نہیں رہا۔ کل وقتی صحافت کے آغاز سے پہلے روز مجھے آج تک کسی مدیر یا نشریاتی ادارے کے مالک نے یہ نہیں کہا کہ کونسے موضوع پر لکھنا یا بولنا ہے۔ جمہوری، نیم جمہوری یا کامل آمرانہ حکومتوں کے ادوار میں بھی سرکار سے ایک بار بھی کالموں کے موضوعات کی فہرست وصول نہیں ہوئی۔
جنرل ضیاء کے دور میں 1980ئکی دہائی کا آغاز ہوا تو اخبار چھپنے سے پہلے سینسرکیلئے بھجوانا پڑتے تھے۔ میری لکھی اکثر تحریروں کو اشاعت کی اجازت نہ ملتی۔ محمد خان جونیجو مرحوم کے وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد سرکاری نگہبانی کم ہونا شروع ہوگئی۔ بتدریج ہم کامل آزادی کی جانب بڑھتے دکھائی دئے۔ کامل آزادی کے ادوار میں بھی چند موضوعات سے گریزلازمی تھا۔ یہ غالب کی بیان کردہ اُس گلی کی مانند تھے جہاں جانے سے دین ودل عزیز رکھنے والوں کو پرہیز کرنا چاہیے۔ وقت گزرنے کے ساتھ سدھائے جانور کی طرح قلم اٹھاتے ہی ذہن فقط ان راستوں کی جانب چل پڑتا ہے جو سرکار کو ناراض کرنے کے بجائے نوکری کا تحفظ یقینی بناتے ہیں۔
تمہید لمبی ہوگئی۔ حقیقت بیان کرنا مگر لازمی تھا کیونکہ بدھ کی صبح سے رات گئے تک میرے کئی پڑھنے اور سننے والے ٹیلی فون، واٹس ایپ اور ٹویٹر کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ تمام ٹی وی چینلوں کو نظربظاہر کراچی سے گرفتار ہونے والی انمول عرف پنکی کے مبینہ جرائم پر گھنٹوں تک پھیلی لائیو نشریات کا حکم کس نے دیا ہے؟ اس معاملہ پر میڈیا........