America Iran Kasheedgi, Phir Aane Wali Thaa
امریکہ ایران کشیدگی، پھر "آنے والی تھاں"
ستائش کی دیانتداری سے تمنا نہ ہونے کے باوجود میرے جیسے قلم گھسیٹ بھی یہ چاہتے ہیں کہ وہ جو لکھیں اسے لوگوں کی ایک معقول تعداد پڑھے۔ جو موضوع کالم میں زیر بحث آئے اس کے بارے میں بیان کردہ رائے سے اتفاق نہیں تو دلائل پر مبنی اختلاف بھی نصیب ہوجائے۔
انٹرنیٹ کی ایجاد سے قبل اخبارات وجرائد کے لئے باقاعدگی سے لکھنے والوں کو قارئین خطوط لکھ کر اپنی رائے سے آگاہ کیا کرتے تھے۔ فیڈ بیک کا یہ سلسلہ ٹیلی فون نے مزید جاندار بنادیا تھا۔ خطوط اور ٹیلی فون دس یا پندرہ افراد کی جانب سے وصول ہونے کے باوجود لکھاری اس گماں میں مبتلا ہوجاتے کہ "ملک بھر میں پھیلے" لوگوں کی بڑی تعداد نے آپ کے لکھے کو پڑھا اور اس کے بارے میں اپنی رائے لکھاری تک پہنچانے کی کوشش بھی کی۔ انٹرنیٹ نے اس گماں کو خاک میں ملادیا ہے۔
اخبارمیں کالم چھپ جانے کے بعد ویب سائٹ پر بھی لگادیا جاتا ہے۔ جس اخبار کے لئے لکھا ہو اس کی ویب سائٹس پر جائیں تو فوراََ علم ہوجاتا ہے کہ کتنے لوگوں نے آپ کا کالم پڑھا ہے۔ اس کے علاوہ ٹھوس اعداد کی بدولت یہ علم بھی ہوجاتا ہے کہ آپ کے لکھے ہوئے کالم کو کتنے لوگوں نے پڑھنے کے بعد پسند کیا اور دیگر لوگوں تک پہنچانے (Share)کی ضرورت محسوس کی۔ اس کے علاوہ لوگوں کی رائے بھی تبصروں (Comments) کی صورت ویب سائٹ پر ہی میسر ہوجاتی ہے۔
اخباروں کی ویب سائٹس کے علاوہ مجھ ایسے "دانشوروں " نے سوشل میڈیا پر ذاتی اکائونٹس بھی بنارکھے ہیں۔ اخبارات کی ویب سائٹس سے براہِ راست رجوع کرنے کے بجائے باقاعدہ قاری ان اکائونٹس کی بدولت آپ کے لکھے کالم پڑھ لیتے ہیں۔ ستائش کی دیانتداری سے تمنا نہ رکھنے کے باوجود انٹرنیٹ کی بدولت میسر ہوئے باقاعدہ قارئین کی تعداد جی کو تسلی فراہم کردیتی ہے۔ یہ اعتراف کرنے میں مجھے جھجک محسوس نہیں ہوتی کہ انٹرنیٹ کی بدولت میسر ہوئے باقاعدہ........
