America Aur Iran Mein Sulah Ke Madoom Hote Imkanat |
امریکہ اور ایران میں صلح کے معدوم ہوتے امکانات
رواں ہفتے کا آغاز ہوتے ہی جو کالم لکھا ہے اس میں اشاروں کنایوں کی مدد سے یہ دعویٰ کردیا کہ 14مئی کے روز چینی صدر سے ملاقات کے لئے جہاز میں بیٹھنے سے قبل امریکی صدر ایران کے ساتھ کسی معاہدے کا خواہش مند ہے۔ اس کی خواہش کے حصول کے لئے لازمی ہے کہ ا یران بھی کم ازکم جنگ بندی برقرار رکھنا چاہے۔ جنگ بندی کو طول دینے کے لئے مگر دیرپا امن کی تلاش کے لئے مذاکرات جاری رکھنا بھی ضروری ہے اور اس تناظر میں اسلام آباد ایک بار پھر دونوں فریقین کی سہولت کاری کا کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔
مقامی اور عالمی میڈیا کی نگاہوں سے اوجھل مذکورہ بالا تناظر میں جو رابطے ہورہے ہیں ان کی تفصیلات تک رسائی میسر نہیں۔ عملی صحافت کے طویل برسوں کی بدولت بنائے تعلقات اور جبلت کی صورت تبدیل ہوئے تجربات کے طفیل اگرچہ اشارے ملے ہیں کہ رواں مہینے نویا دس تا ریخ کو امریکی اور ایرانی مذاکرات کار ایک بار پھر اسلام آسکتے ہیں۔ ممکنہ مذاکرات کار کے نام اور عہدے مگر جاننے میں ناکام رہا۔
رواں ہفتے کے اختتام پر امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے ایک اور دور کے امکانات کی تصدیق ذمہ دار سرکاری ذرائع سے ہونہیں رہی۔ اسلام آباد کے "حساس علاقوں" کی ویسی نگرانی بھی نظر نہیں آرہی جو چند ہفتے قبل دونوں ممالک کے وفود کے انتظار میں لاگو ہوئی نظر آرہی تھی۔ اسلام آباد داخلے کے تمام راستوں پر نگرانی کے ناکے البتہ بدستور قائم ہیں۔ شہر........