Aleema Khan Ke Dharno Ko Awami Tehreek Banane Ki Nakam Koshishen
تحریک انصاف کی سیاست پر تبصرہ آرائی سے پرہیزکرتا ہوں۔ بنیادی وجہ اس کی یہ ہے کہ میں اس پر تنقید کرتے ہوئے پرانے حساب چکاتاسنائی نہیں دیناچاہتا۔ رات گئی بات گئی والے رویے کے ساتھ توجہ حال ہی پر مرکوز رکھنے کی خواہش ہے۔
اکتوبر 2011ء میں لاہور کے مینارِ پاکستان تلے اس تحریک کا نوجوانوں میں مقبول ترین سیاسی جماعت کی صورت احیاء ہوا تو میں پانی کے بہائو کے الٹ ہاتھ پائوں چلانا شروع ہوگیا۔ مقبولیت کی رونق میں تبدیلی کے دیے جلانے کے بجائے کرشماتی شخصیات کی عقیدت میں تشکیل پائی سیاسی تحاریک کی محدودات اور منفی رحجانات کے ذکر میں مصروف ہوگیا۔ بحث چل نکلی تو دلائل تک محدود نہ رہی۔
تحریک انصاف وطن عزیز کی پہلی سیاسی جماعت تھی جس نے سوشل میڈیا کو اپنا بیانیہ فروغ دینے کے لئے نہایت منظم اور تخلیقی انداز میں استعمال کیا۔ نفرت سوشل میڈیا کے ذریعے "دشمنوں " کو دیوار سے لگانے میں کلیدی کردارادا کرتی ہے۔ میرے بیان کردہ تحفظات کا دلائل سے جواب دینے کے بجائے لہٰذا میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں نقب لگاکر ایسی تصاویر نکالی گئیں جو مجھے "بدکردار" ثابت کرسکیں۔ بات وہاں ختم نہ ہوئی۔ تقریباََ15برس قبل ایک مشہور پراپرٹی ڈیلر سے پلاٹ اور لاکھوں روپے لینے کے "ثبوت" بھی "مشتری" کو ہوشیار کرنے کے لئے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارموں پر نمایاں انداز میں پھیلادئیے گئے۔
بڑھاپے میں داخل ہونے سے قبل آتش کا چراغ ان دنوں ضرورت سے زیادہ پھڑپھڑارہا تھا۔ وضاحتیں دینے کے بجائے ضدی بچوں کی طرح "کہیے کہیے مجھے براکہیے"کی گردان کرتے ہوئے تحریک انصاف کی مزید تنقید میں مصروف ہوگیا۔ لطیفہ یہ بھی رہا کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ کے ساتھ احمقانہ جنگ میں الجھنے کے باوجود میرے عمران خان سے ذاتی تعلقات باہمی احترام سمیت برقرار رہے۔ لاہور کی وجہ سے ہمارے کئی مشترکہ دوست بھی تحریک انصاف کے ساتھ میرے پھڈے سے پریشان رہتے۔ محلے کے اونترے منڈوں نے معاملات کو مگر بہتر نہ ہونے دیا اور بالآخر اگست 2018ء میں عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھالیا۔ ان کے حلف اٹھانے کے چند ہی ہفتوں بعد میں ٹی وی کا پہلا اینکر تھا جسے "مالی مشکلات" کی وجہ سے فارغ کردیا........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin