menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aabna e Hormuz Ke Qziye Ka Ab Bharpur Jang He Faisla Kare Gi

20 0
13.07.2026

آبنائے ہرمز کے قضیّہ کا اب بھرپور جنگ ہی فیصلہ کرے گی

امریکہ اور اسرائیل نے باہم مل کر ایران کے رہبر اعلیٰ اور سپریم کمانڈر آیت اللہ سید علی خمینائی کو 28فروری اور یکم مارچ کی درمیانی رات شہید کردیا تھا۔ ان کی تدفین کے لئے مگر چار مہینے انتظار ہوا۔ کامل سات دن ان کی آخری رسومات کے لئے وقف تھے جن کے دوران ان کے جسدِ خاکی کو تہران سے قم اور وہاں سے نجف اورکربلا لے جانے کے بعد بالآخر مشہد پہنچادیا گیا۔ میرے کئی دوستوں کا خیال تھا کہ سوگ کے سات طویل دن ختم ہوجانے کے بعد ایران اورامریکہ کے باہمی معاملات مسلسل مذاکرات کی بدولت دائمی امن کی جانب بڑھنا شروع ہوجائیں گے۔ دریں اثناء اقتصادی پابندیاں اٹھ جانے کی وجہ سے ایرانی تیل اور گیس عالمی منڈی میں بآسانی میسر ہوں گے۔ ان کی فروخت سے جمع ہوئی رقوم ایرانی معیشت کو تیزی سے بحال کرتی ہوئی دنیا کے بازاروں میں بھی رونق لگادیں گی۔

عالمی امور کا ماہر نہیں ہوں۔ ذات کا رپورٹر ہوتے ہوئے مگر معاملات کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ادب وثقافت کا عاجز طالب علم ہوتے ہوئے مصر رہا کہ ایران کی اشرافیہ اور عوام اپنی سوچ کے اظہار کے لئے براہ راست الفاظ نہیں علامتوں اور استعاروں پر انحصار کے عادی ہیں۔ عالمی طورپر مقبول تجزیوں کے برعکس تہران میں نمازِ جنازہ ادا ہوجانے کے بعد عوام کے جمِ غفیر نے "انتقام" کا ورد شروع کردیا۔ بتدریج سیاہ ماتمی جھنڈوں کی جگہ تابوت بردار افراد کے گرد سرخ پرچم کثیر تعداد میں لہرانے لگے۔ سرخ پرچموں کی نمائش "خون کا بدلہ خون" سے لینے........

© Daily Urdu