menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

1984 Ka Aur Aaj Ka Islamabad

19 0
15.06.2026

1984ء کا اور آج کا اسلام آباد

اسلام آباد کے انگریزی روزنامہ "دی مسلم" کے لئے کام کرتے ہوئے "آتش" اچھوتے موضوعات کی تلاش میں رہتا۔ پاکستان ان دنوں "افغان جہاد" کا کلیدی سرپرست اور مرکز شمار ہوتا تھا۔ نام نہاد "آزاد دنیا" کے بے شمار صحافی اور مصنفین اسلام آباد آکر ہمارے فیصلہ سازوں سے ملاقاتوں کو بے چین رہتے۔ افغان مجاہدین کے تفصیلی انٹرویو کے بعد انہیں دورِ حاضر کے قدآور حریت پسند بناکر دنیا سے روشناس کرواتے۔ غیر ملکی مہمانوں کی بہتات نے مجھے ایک کالم متعارف کروانے کو اُکسایا۔ انگریزی میں اس کے عنوان کا آسان اردو ترجمہ "میرے شہر آیا مہمان" ہوسکتا ہے۔

ان ہی دنوں پولینڈ کی ایک صحافی بھی اسلام آباد آئی۔ اس سے ملاقات ہوئی تو میں بہت حیران ہوا۔ پولینڈ ان دنوں کمیونسٹ بلاک کا اہم رکن تھا۔ وہاں کی صحافی کو "افغان جہاد" کو بڑھاچڑھا کر پیش کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ صحافیانہ جستجو نے مجھے مجبور کیا کہ میں جاسوسوں کی طرح اس کی پاکستان آمد کے اصل اسباب جاننے کی کوشش کروں۔ اس تناظر میں اس کا انٹرویو کرتے ہوئے میں نے اپنے تئیں بہت ہوشیاری دکھاتے ہوئے اس سے کئی ایسے سوالات کئے جو اس کے پاکستان آنے کا "اصل مقصد" بے نقاب کرسکتے تھے۔ وہ مگر اس کہانی پر ڈٹی رہی کہ وہ صرف پاکستان کے بدھ مت کے ساتھ تاریخی اور ثقافتی رشتے سمجھنے کے لئے یہاں آئی ہے۔ میں اس کے جواب سے مطمئن نہ ہوا مگر اس نے بدھ مت کو تاریخ کے بارے میں اپنے علم سے مجھے مرعوب کئے رکھا۔

بہت کم لوگوں کو یاد ہوگا کہ پولینڈ جیسے "کمیونسٹ ملک میں جہاں "مزدور"........

© Daily Urdu