Taqat Ka Aaina, Kamzor Ka Muqadar

طاقت کا آئینہ، کمزور کا مقدر

ہم ایک عجیب معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں "میرٹ" کی تعریف آئین، قانون یا اخلاقیات سے نہیں بلکہ طاقت کے منہ سے ادا ہونے والے لفظ سے متعین ہوتی ہے۔ جو طاقتور کہہ دے، وہی اصول، جو حکم صادر ہو جائے، وہی ضابطہ۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ قومیں ترقی کے خواب دیکھتی ہیں اور ہم طاقت کے دربار میں سچ کی بولی لگاتے ہیں۔

ہمارا مسئلہ وقتی نہیں، ساختی ہے۔ یہ صرف چند برسوں یا چند حکومتوں کی ناکامی نہیں بلکہ ایک ایسا تاریخی تسلسل ہے جس میں طاقتور اور کمزور کی تقسیم پتھر پر لکیر بن چکی ہے۔ امیر اور غریب کی بحث بھی دراصل اسی طاقت کی توسیع ہے۔ جس کے پاس اختیار ہے، وہی وسائل کا مالک ہے، جس کے پاس اختیار نہیں، وہی نصیب کے فلسفے میں الجھا دیا جاتا ہے۔

عوام کو صدیوں سے دو جملوں میں قید رکھا گیا ہے: صبر کرو اور انتظار کرو۔ غربت کو........

© Daily Urdu