Pakistan Ke School: Taasur Aur Haqiqat Ka Farq
پاکستان کے سکول: تاثر اور حقیقت کا فرق
کبھی کبھی ایک سروے ہمارے برسوں سے قائم تصور کو ایک لمحے میں چیلنج کر دیتا ہے۔ گیلپ آف پاکستان کے ایک حالیہ سروے نے بھی کچھ ایسا ہی کیا ہے۔ پاکستان میں تعلیم کا ذکر ہو تو عموماً شکایات ہی سننے کو ملتی ہیں۔ والدین سکولوں کی فیس، اساتذہ کی کارکردگی، تعلیمی معیار اور سہولتوں کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ سرکاری سکولوں کا ذکر آئے تو شکایات کا دائرہ مزید وسیع ہو جاتا ہے۔
لیکن گیلپ کے سروے نے ایک مختلف تصویر پیش کی ہے۔ سروے کے مطابق 85 فیصد والدین اپنے بچوں کے سکولوں کی بنیادی سہولتوں سے مطمئن ہیں۔ یہ ایک معمولی تعداد نہیں۔ یہ ایک ایسا تناسب ہے جو ہمیں رک کر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر حقیقت کیا ہے؟ وہ جو ہم اپنے اردگرد دیکھتے اور سنتے ہیں، یا وہ جو سروے کے اعداد و شمار ہمیں بتا رہے ہیں؟
سروے میں والدین سے سکولوں کی پانچ بنیادی سہولتوں کے بارے میں رائے لی گئی۔ 85 فیصد والدین نے باتھ رومز کی سہولت اور صفائی سے اطمینان کا اظہار کیا۔ 82 فیصد نے بتایا کہ کلاس رومز میں پنکھے موجود ہیں۔ 78 فیصد کے مطابق بچوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب ہے جبکہ 75 فیصد نے سکولوں میں کھیل کے میدان موجود ہونے کی بات کی۔ البتہ لائبریری کے حوالے سے صورتحال قدرے مختلف رہی اور 72 فیصد والدین نے اس سہولت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
یہ نتائج اس عمومی تاثر سے مختلف ہیں جو ہمیں معاشرے میں سننے کو ملتا ہے۔ اگر ہم کسی والدین سے تعلیم کے نظام کے بارے میں بات کریں تو زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی شکایت کا ذکر کریں گے۔ کسی کو فیس زیادہ لگتی ہے، کسی کو پڑھائی کا معیار کم محسوس ہوتا ہے، کوئی اساتذہ سے نالاں ہے تو کسی کو سکول کے انتظامی معاملات پر اعتراض ہے۔
تو پھر یہ تضاد کیوں ہے؟ شاید اس سوال کا جواب ہمارے اپنے رویے میں چھپا ہوا ہے۔
ہم عموماً منفی چیزوں کو زیادہ شدت سے محسوس کرتے........
