Khubsurti Ke Khud Sakhta Mayar

ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں انسان کی پہچان اس کے کردار، ذہانت، تعلیم اور اخلاق سے نہیں بلکہ اس کے جسم، رنگ اور خدوخال سے کی جاتی ہے۔ خوبصورتی کے کچھ خودساختہ معیار بنا لیے گئے ہیں جن پر پورا نہ اترنے والا شخص طعنوں، مذاق اور حقارت کا نشانہ بنتا ہے۔ کسی کو اس کے وزن پر شرمندہ کیا جاتا ہے تو کسی کو قد، رنگ یا چہرے کی بناوٹ پر۔ یہی رویہ، جسے آج کی زبان میں باڈی شیمنگ کہا جاتا ہے، دراصل انسان کی عزتِ نفس پر وہ خاموش حملہ ہے جو دکھائی تو نہیں دیتا مگر اندر ہی اندر شخصیت کو توڑ دیتا ہے۔

باڈی شیمنگ کو ہمارے معاشرے میں اکثر "مزاح"، "سچائی" یا "اصلاح" کا نام دے دیا جاتا ہے۔ گھر ہو یا اسکول، محفل........

© Daily Urdu