Adab, Zindagi, Tanaqzat, Mamnuat
ادب، زندگی، تناقضات، ممنوعات
ادب محض ہمیں اپنے روبر و نہیں لاتا، دنیا میں ہمارے ہونے کے مجموعی تجربے اور اس کی معنویت کے روبرو لاتا ہے۔ چناں چہ ادب ہمیں، تر ک کیے ہوئے حصوں ہی کی جانب متوجہ نہیں کرتا، کئی خطرناک منطقوں میں بھی لے جاتا ہے۔
جعفر زٹلی سے منٹو، جارج آرویل سے کافکا، خطرناک مصنفین ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مصنف نہیں، ادب خطرناک ہے۔ کچھ مصنف، ادب کے اس مقام کی طرف رخ نہیں کرتے، جہاں وہ اپنے خطرناک ہونے کے امکانات کا حامل ہوتا ہے۔ وہ محفوظ جگہوں تک محدود رہتے ہیں۔
کہنے کا مقصود یہ ہے کہ ادب، کسی نظریے کے سبب خطرناک نہیں ہوا کرتا، بلکہ انسانی وجود، سماج، دنیا کو اپنے پیش کرنے کے طریقے کے سبب ہی، خطرناک ہوا کرتا ہے۔
دوسری طرف، ادب کا خطرناک ہونا، ہمیشہ اضافی ہوا کرتا ہے۔ یعنی ادب، مقتدر قوتوں کے سیاسی ونفسیاتی اجارے کے لیے خطرہ ہوا کرتا ہے۔ آسکر وائلڈ نے اپنے ناول "ڈورین گرے کی تصویر"........
