Tabqati Basant |
بسنت تہوار کو دو دہائیاں بعد حکومتی سطح پر منانے کی ایک ہی بنیادی وجہ ہے کہ پوائنٹ سکور کیا جائے اور بابائے ثقافت پسندی کا ڈھول پیٹا جائے۔ حقیت یہ ہے کہ بسنت منانے والے آج بزرگ بن چکے ہیں اور پتنگ بازی کے داؤ پیچ بھول چکے ہیں۔ نئی نسل جسے جنریشن زی کہا جاتا ہے، وہ بسنت سے نابلد ہے اور نہ ہی اس میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ نسل موبائل اور ٹیبلٹ، سیلفی اور ریلز کے چسکے میں مبتلا ہے۔
میڈیا میں بسنت پورے زور و شور سے جاری ہے جبکہ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ آسمان پر نظر ماری جائے تو اِکا دُکا گڈی ہی اڑتی نظر آتی ہے اور یہ بھی نظر گھما پھرا کر ڈھونڈنی پڑتی ہے اور صرف دیکھنا ہی نہیں پڑتا بلکہ بھرپور توجہ بھی دینی پڑتی ہے کہ گُڈی اُڈ رہی ہے یا اِل۔ اس سے یہ عیاں ہے کہ میڈیاکو لفافہ مہیا کیا گیا ہے، بسنت سے متعلقہ تقریبات پیڈ ہیں۔
بسنت کا یہ تہوار مکمل طور پر یکطرفہ ہے۔ اس میں عام آدمی شرکت کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ڈیڑھ ہزار کا ڈور کا ایک پنا اور چھ سو روپے کا ایک گڈا اور حقہ پانی ملا کر ایک پتنگ اُڑانے کا خرچہ ڈھائی ہزار روپے بنتا ہے۔ جبکہ مزدور تو ایک طرف اتنی ایک دیہاڑی مستری کی بھی نہیں ہوتی۔ لوگ مہنگائی کا........