Shayari Tasub Aur Samaj |
ٹیسی ٹس کہتا ہے کہ سنگ تراش کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ہتھوڑی، مصور کا قلم اور شاعر کا خیال تینوں عالمِ بالا سے اترتے ہیں لیکن اسے پورا سچ نہیں سمجھنا چاہیے۔ قدرت نے ہر انسان کے اندر ہر قسم کی صفات بھر دی ہیں، اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ کن صفات کو اولیت دیتا ہے، کن خصوصیات کو پروان چڑھاتا ہے، کن باتوں میں دلجمعی سے دلچسپی لیتا ہے۔
یہ کہنا بجا ہے کہ ملکی معاشرہ کے اکثر لوگ اپنے اندر موجود صفات کو جاننے کی تگ و دود ہی نہیں کرتے، اپنے اندر جھاتی مارنے کی تکلیف ہی گوارا نہیں کرتے، وہ دنیا کی گہما گہمی اور چکا چوند میں اس قدر کھو چکے ہوتے ہیں کہ ان کو اپنی طرف توجہ کرنے کی فرصت ہی نہیں ہوتی۔ جس کے نتیجہ میں انسان میں موجود ٹیلنٹ ظاہر ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جاتا ہے۔
بہرحال بعض افراد نثر میں لوہا منواتے ہیں اور بعض لوگ شاعری میں۔ شاعری بہ نسبت نثر کے زیادہ مشکل اور کٹھن کام ہے۔ جس طرح ایک مصور سارے منظر کو رنگوں میں بھر دیتا ہے اسی طرح شاعر بھی اپنے خیالات و محسوسات و احساسات و تجربات و ادراکات کو لفظوں میں اتار دیتا ہے۔
انسان کا صرف جسم ہی نہیں ہے بلکہ اس کی روح بھی ہے۔ جسم کی پرورش کے لیے تو مادی اشیاء کافی ہوتی ہیں لیکن روحانی پرورش اور دیکھ بھال کے لیے مادی اشیاء بےکار اور فضول ہیں۔
روحانی دیکھ بھال اور پرورش کے واسطے قدرت نے ایسی چیزیں پیدا کی ہیں جو کثیف نہیں بلکہ لطیف ہیں۔ ان چیزوں میں ایک گانا بھی ہے اور گانا ہمیشہ شاعری کا محتاج ہوتا ہے۔ اچھی شاعری روحانی تسکین اور پرورش کا ایک بہت بڑا ذریعہ بنتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ انسان لوہے کا نہیں بنا ہوا، ہر انسان خواہ کوئی کام کرتا ہو، وہ دن بھر کی مشقت کے بعد کچھ آرام اور سکون بھی چاہتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے مختلف لوگ........