Dhamki Ki Nafsiyat

سن بیس سو بارہ میں شہباز شریف نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہم نے الیکشن کے بعد زرداری کو لاڑکانہ، کراچی، پشاور اور لاہور کی سڑکوں پر نہ گھسیٹا تو میرا نام شہباز شریف نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو آئے روز دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر جلد امن معاہدہ نہ ہوا تو یہ ایران کے لیے بہت برا وقت ہوگا۔

اور اِدھر گزشتہ روز پاکستان فوج کے ترجمان ادارے "آئی ایس پی آر" نے بھارتی آرمی چیف کی جانب سے پاکستان کو عالمی جغرافیے سے ہٹانے کی دھمکی کے ردعمل میں کہا ہے کہ ایک خود مختار جوہری ہمسایہ ملک کو جغرافیے سے مٹانے کی دھمکی دینا ذہنی صلاحیتوں کے دیوالیہ پن اور جنگی جنون کا اظہار ہے۔

ایسے دھمکی آمیز بیانات آج کی دنیا کی اُس نفسیاتی سیاست کا حصہ ہیں جس میں جنگیں محض سرحدوں پر نہیں بلکہ ذہنوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ اب گولیاں چلانے سے پہلے الفاظ چلائے جاتے ہیں، میزائل داغنے سے پہلے خوف پھیلایا جاتا ہے۔

دھمکی آخر ہوتی کیا ہے؟ دھمکی اور وارننگ میں کیا فرق ہے؟ بظاہر تو دھمکی صرف سخت الفاظ کا مجموعہ لگتی ہے۔ مگر نفسیات اسے انسانی خوف، غصے، عدمِ تحفظ اور طاقت کے اظہار سے جوڑتی ہے۔ دھمکی دراصل وہ کوشش ہوتی ہے جس کے ذریعے کسی فرد، گروہ، جتھے، قوم یا ریاست کو ذہنی دباؤ میں لا کر مرعوب کیا جائے۔ اس کا بنیادی مقصد خوف کی فضاء پیدا کرنا ہوتا ہے۔

وارننگ میں احتیاط اور دفاع کا عنصر ہوتا ہے جبکہ دھمکی میں خوف اور جبر شامل ہوتا ہے۔ اگر کوئی ریاست یہ کہے کہ "سرحد پار........

© Daily Urdu