Main Ne Sutlej Dekhi Hai
میں نے سُتلج دیکھی ہے
ایک طویل عرصے بعد ایسی فلم دیکھی جس میں مزاح ہے نہ رومانس اور روایتی گانے وغیرہ، یہ فلم میری فلموں کے بارے چوائس کے خلاف ہے جس کے مطابق فلم کے تین ہی اجزا ہوتے ہیں جن میں پہلا ہے انٹرٹینمنٹ، دوسرا ہے انٹرٹینمنٹ اور تیسرا بھی انٹرٹینمنٹ ہی ہے مگر یہ فلم انٹرٹینمنٹ نہیں ہے بلکہ ایک جذبہ ہے، کمٹ منٹ ہے۔
مجھے کہنے میں عار نہیں کہ ہدایت کار ہنی تریہان، پروڈوسرز رونی اسکرو والا اورابھیشک چوبے نے دوگھنٹے سے بھی کچھ زیادہ وقت تک مجھے اس فلم سے باندھ کے رکھا جب تک کہ اینڈ کریڈٹ بھی ختم نہیں ہوگئے حالانکہ میں کہانی اس سے پہلے پڑ ھ چکا تھا اور اپنے دوست سکھ فارجسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کے ساتھ اس پر بحث بھی کر چکا تھا۔ فلم کی کہانی بھارتی پنجاب کے اسی اور نوے کی دہائی کے حالات، ایک بینک ملازم جسونت سنگھ گالرا کی سچی کہانی کے گرد گھومتی ہے جنہوں نے پنجاب میں چلنے والی سکھوں کی تحریک کے دوران لاپتا کئے جانے والے اور پولیس تحویل میں قتل کر دئیے جانے والے ہزاروں (پچیس ہزارسے زائد) پنجابیوں کا مقدمہ بنایا۔
اس فلم کا مرکزی کردار معروف گلوکار اور اداکار ددِل جیت دوسانج نے ادا کیا ہے۔ میں دل جیت دوسانج کی بے ساختہ اداکاری کا فین ہوں مگر کردار کااس وقت کہیں زیادہ مداح ہوگیا جب اس نے سردار جی تھری بنائی، اس میں پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کو کاسٹ کیا اور جب انتہا پسند ہندووں نے ہانیہ عامر کو نکال کے اس فلم کو ریلیز کرنے کی مہم چلائی تو وہ ڈٹ گیا۔ اس نے کہا کہ فنکاروں کا سیاست اور سرحدوں سے تعلق نہیں ہوتا اور سردار جی تھری ایک غیر........
