Iran Ka Muqadma
یہ بھائیوں کی طرح اہم اور محترم، ایران کے قونصل جنرل مہران موحدفر کی دعوت پر ایک ملاقات تھی جس کے تاخیرسے ہونے کا میں ذمے دار بھی تھا اوراس پر شرمندہ بھی۔ وہ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی گپ شپ میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے پر اپنا مقدمہ لڑ رہے تھے اور مجھے لگ رہا تھا کہ یہ میرا اپنا مقدمہ ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستانیوں کی واضح اور بھاری اکثریت امریکہ، اسرائیل کی ایران سے جنگ پر کسی اگر مگر کے بغیر ایران کے ساتھ ہے اور رائے عامہ کو منظم کرنے والے بہت سارے سیاسی و سماجی دانشور اور سابق سفیر بھی۔
برادرم مہران موحدفر، امریکہ کے طالبات کے سکول پر حملے کی تفصیلات بتا رہے تھے، وہ اس کا موازنہ لاہور کے ایک زیر تعمیر سیوریج میں گر کر جاں بحق ہونے والی بچی کے ساتھ کر رہے تھے کہ ہم شہریوں نے اس پر کتنے بڑے ردعمل کا مظاہرہ کیا اور خود اس پر آبدیدہ ہوئے، ا ظہار یکجہتی کیا مگر میناب میں بچیوں کے سکول پر اس وقت امریکی اور اسرائیلی حملہ ہوا جب وہاں چھٹی ہونے والی تھی، معصوم بچیوں کے والدین انہیں لینے کے لئے سکول کے باہر موجود تھے کہ اس عمارت کو ملبے کاڈھیر بنا دیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہاں سے کسی بچی کی لاش تک نہیں ملی کیونکہ وہ حملہ اتنے خوفناک میزائلوں کے ساتھ تھا جنہوں نے ماؤں اورباپوں کے سامنے بچیوں کے جسموں کو برادہ بناتے ہوئے ملبے میں ملا دیا۔
مہران موحدفر کہہ رہے تھے کہ یہ جنگ نہ ایران کی خواہش ہے اور نہ ہی اس نے شروع کی ہے اور میں بین الاقوامی تعلقات کے معمولی طالب علم کی حیثیت سے ان سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ جب مذاکرات جاری تھے تو اس دوران امریکہ کوگفتگو کو معطل کرتے ہوئے اسرائیل کی شہہ پر حملے کا کوئی حق حاص نہیں........
