Fauj, Dollars Aur Madaniyat

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاک فوج کے ترجمان، ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی پریس کانفرنس کا اہم ترین پہلو کیا ہوتا ہے، وہ اس پریس کانفرنس میں ان صحافیوں کی لازمی اور بڑی شرکت ہے جو فوج کے نکتہ نظر سے اختلاف رکھتے ہیں یا معذرت کے ساتھ، سادہ ترین الفاظ میں یوتھیے ہیں۔

ان میں سے کچھ جلی اورجہری یوتھیے ہیں یعنی وہ پی ٹی آئی کی ذہنی غلامی میں ہر قسم کی مجہول گفتگو، بے معنی سوال سے لے کر ملک دشمنی کے موقف کے اظہار تک میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے اور کچھ ایسے ہیں جنہیں ہمارے دوست رضوان رضی، خفی یوتھیوں کے نام کے ساتھ منسوب کرتے ہیں اوردلچسپ امر یہ ہے کہ وہ ان کا نام بھی نہیں لیتے مگر اس کے باوجود ان کی دُم کچلی جاتی ہے اور وہ ان کی پوسٹس کو ری پوسٹ کرکے اپنا ساڑھ نکالتے ہیں۔

بات صحافیوں کی اقسام کی طرف نکل گئی اور مجھے خدشہ ہے کہ ایک اچھے خاصے سنجیدہ اور اہم موضوع پر کالم اتنا ہی غیر سنجیدہ اور غیر مہذب نہ ہوجائے جتنی پی ٹی آئی سے جڑنے والی کوئی بھی تحریر ہوسکتی ہے۔ میں ذاتی طور پر عمران خان اور فیض حمید کا بہت مشکور ہوں کہ اگر وہ نہ ہوتے تو ہمیں تہذیب اور قوم کے دشمن ایک ہی ٹوکری میں نہ ملتے۔ بہرحال، بات ہو رہی ہے پاک فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس کے حوالے سے کہ وہاں ان کے نکتہ نظر سے اختلاف کرنے والے صحافی بڑی تعداد میں مدعو ہوتے ہیں اور انہیں سوال کرنے کا بار بار موقع بھی ملتا ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگ سوال کرکے اہم معاملات پر رائے حاصل کرتے ہیں اور کچھ یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں کیا........

© Daily Urdu