T20 World Cup: Kya Islamabad Aur Dhaka Mein Qurbatain Barh Sakeingi

حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش نے ہندوستان جانے سے انکار کر دیا ہے۔ چونکہ ورلڈ کپ ہندوستان میں منعقد ہونے جا رہا ہے، اس لیے بنگلہ دیش کی ٹیم وہاں جانا نہیں چاہتی اور انہوں نے برملا اس کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ یہ فیصلہ صرف کرکٹ ایونٹ سے دستبرداری نہیں بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی، سفارتی اور عوامی ترجیحات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ ادھر آئی سی سی نے بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے اس اعلان کے بعد اس کے متبادل کے طور پر اسکاٹ لینڈ کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس نے عالمی کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

اس صورتِ حال میں اب لوگوں کی نظریں پاکستان کرکٹ ٹیم پر مرکوز ہو چکی ہیں کہ کیا پاکستان کرکٹ ٹیم وہ ورلڈ کپ، جو ہندوستان میں منعقد ہونے جا رہا ہے، اس میں شرکت کرے گی یا نہیں اور اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔ میڈیا، سیاسی حلقے، سابق کرکٹرز اور عوامی فورمز پر اس معاملے پر کھل کر گفتگو ہو رہی ہے اور ہر طبقہ اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہے۔

اگرچہ اس ضمن میں دو دن قبل پی سی بی کے چیئرمین اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ایک تفصیلی ملاقات بھی کی ہے، جس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ پاکستان کو اس غیر معمولی صورتِ حال میں کیا لائحۂ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ یہ ملاقات اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ معاملہ محض کھیل تک محدود نہیں بلکہ اس کے سفارتی، سیاسی اور علاقائی اثرات بھی گہرے ہیں۔

عوامی رائے اور مجموعی صورتِ حال کو دیکھا جائے تو اس اہم موقع پر پاکستان کو بنگلہ دیش کی سپورٹ کرتے ہوئے ہندوستان میں........

© Daily Urdu