Sindh, Balochistan: Mehroomi Ke Saaye Mein Jurwan Bhai

شہر قائد کی اندرونی سڑکیں تو ناگفتہ بہ صورتحال سے دوچار ہیں ہی، اس پر تو کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، مگر جیسے ہی منی پاکستان کو اللہ حافظ کہتے ہیں اور حیدرآباد شروع ہو جاتا ہے تو پتا لگ جاتا ہے کہ ہم اس سے بھی زیادہ پسماندہ و محروم زدہ علاقے میں داخل ہو گئے ہیں جسے اندرونِ سندھ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہاں کے بعد سڑکوں کی صورتحال دیکھ کر تو کراچی کی سڑکوں پر بھی رشک آنے لگتا ہے۔ حیدرآباد سے سکھر کے درمیان نیشنل ہائی وے N-5 پر ڈائیورشنز اور سڑک کی خراب صورتحال مسافروں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔

جنوری 2026 کے مطابق نیشنل ہائی وے N-5 پر اس وقت کئی مقامات پر مرمتی کام اور چھوٹے پلوں کی تعمیر کی وجہ سے ڈائیورشنز موجود ہیں، خاص طور پر مٹیاری، ہالا اور نوشہرو فیروز کے قریب سڑک کی ری کارپٹنگ اور کچھ حصوں کی بحالی کا کام چل رہا ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک سست روی کا شکار رہتی ہے۔ ٹرکوں اور ٹرالوں کی بھاری ٹریفک اور بوجھ کی وجہ سے سڑک بار بار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے، جس کی تعمیر و مرمت کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی عارضی پیچ ورک تو کر رہی ہے، لیکن یہ کوئی مستقل حل ثابت نہیں ہو رہا۔

ڈائیورشنز اور ٹریفک کے دباؤ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے حیدرآباد-سکھر موٹروے M-6 ہی واحد حل ہے۔ اس حوالے سے حکومت نے رانی پور سے سکھر سیکشن 5 اور نوشہرو فیروز سے رانی پور سیکشن 4 کے لیے ٹھیکیداروں کی پری کوالیفیکیشن کا نوٹس جاری کر دیا ہے، جس کی آخری تاریخ 26 جنوری........

© Daily Urdu