menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Petrol Bomb Aur Mehangai Ka Selab

11 0
yesterday

پٹرول بم اور مہنگائی کا سیلاب

ملک میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدہ جنگی صورتِ حال کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک بے تحاشا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ 55 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 321 روپے 17 پیسے تک پہنچ چکی ہے، جو یقیناً انتہائی تشویشناک اور پریشان کن مرحلہ ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عوام پر ایک اور پٹرول بم گرا دیا گیا ہو۔ اس پٹرول بم کے بعد مہنگائی کا جو سیلاب دکھائی دے رہا ہے، وہ زندگی کے معمولات کو تنکے کی طرح بہا لے جائگا۔

پاکستان میں عمومی طور پر یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جب بھی پٹرول کی قیمت میں 10 سے 15 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوتا ہے تو مارکیٹ میں تقریباً تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتیں یکدم بڑھا دی جاتی ہیں۔ خصوصاً کھانے پینے کی وہ اشیا جو مختلف شہروں سے گاڑیوں کے ذریعے لائی جاتی ہیں، ان کے کرایے فوری طور پر بڑھ جاتے ہیں اور اسی بنیاد پر ان کی قیمتیں بھی بڑھا دی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر ضروریاتِ زندگی کی اشیا بھی اسی دن سے مہنگی کر دی جاتی ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سامان اکثر گزشتہ مہینے ارزاں نرخوں پر خریدا گیا ہوتا ہے۔ مگر پٹرول میں اضافے کو جواز بنا کر اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور وہی اشیا عوام کو مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ جب یہ سلسلہ ایک مرتبہ چل نکلتا ہے تو پھر رکنے کا نام نہیں لیتا۔ اگر پٹرول کی قیمت میں 10 یا 15 روپے اضافہ ہونے کے بعد 20 روپے کی کمی بھی ہو جائے، یعنی پہلے والا اضافہ مکمل طور پر واپس آ جائے بلکہ مزید کمی بھی کر دی جائے، تب بھی وہ اشیا جو مہنگی کر دی گئی تھیں ان کی قیمتوں میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جاتی۔ نہ ان کے نرخ کم کیے جاتے ہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی مؤثر نگرانی یا جواب دہی کا نظام موجود ہے۔ قیمتیں بڑھانے والا تو فوراً موجود ہوتا ہے، مگر قیمتیں کم کروانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اس تمام صورتحال کا بوجھ براہِ راست عوام پر پڑتا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے پس رہے ہیں۔ چنانچہ قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں ملتا اور مہنگائی کا یہ سلسلہ مزید زور پکڑتا رہتا ہے۔

اگر پٹرول کی قیمتیں کسی ناگزیر وجوہات کی بنا پر بڑھ جائیں اور اس کے نتیجے میں کچھ اشیا کی قیمتیں بھی کسی حد تک بڑھ جائیں تو یہ بات ایک حد تک قابلِ فہم ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر بعد میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی آ جائے تو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے کمی ہونا لازم ہے۔ یہ ذمہ داری صرف حکومتِ وقت کی ہی نہیں بلکہ تاجروں اور دکانداروں کی بھی ہے کہ وہ منصفانہ کردار ادا کریں۔ اگر حکومت کی جانب سے تاجروں اور دکانداروں کو کسی قسم کا ریلیف ملتا ہے تو انہیں بھی چاہیے کہ وہ اس ریلیف کو عوام تک منتقل کریں اور قیمتوں کو یا تو سابقہ سطح پر بحال کریں یا اگر ممکن ہو تو اس سے بھی کم کر دیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ نہ حکومت کی رٹ واضح طور پر نظر آتی ہے اور نہ ہی تاجر و دکاندار حضرات انصاف پر مبنی فیصلے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ من مانی قیمتوں کے ذریعے عوام کو مسلسل پریشانی میں مبتلا رکھا جاتا ہے، جو یقیناً لمحۂ فکریہ ہے۔

اس صورتحال میں ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھے۔ جن اشیا کی قیمتیں پٹرول مہنگا ہونے کے باعث بڑھائی جاتی ہیں، جب پٹرول کی قیمتیں دوبارہ معمول پر آئیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تمام اشیا کی قیمتوں کو بھی کنٹرول کرے اور ان پرانے نرخوں کو بحال کروائے۔ اس کے لیے باقاعدہ جانچ پڑتال کا نظام قائم کیا جائے اور دکانداروں و تاجروں کو پابند کیا جائے کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔ جو عناصر خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اندھیر نگری اور چوپٹ راج کا یہ نظام مزید نہیں چل سکتا کیونکہ عوام اس صورتحال سے سخت مایوس اور تنگ آ چکے ہیں۔

دوسری طرف اسی گمبھیر صورتِ حال میں روسی ماہرین نے روسی میڈیا کے ذریعے یہ دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے دوران روس پاکستان کو تیل کی سپلائی کرے گا۔ روسی میڈیا میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق عالمی توانائی امور کے ماہر ڈاکٹر ممودہ سلامے نے کہا ہے کہ 7 لاکھ 33 ہزار بیرل روسی خام تیل جلد پورٹ قاسم بندرگاہ کے ذریعے پاکستان پہنچ جائے گا۔ اس سے قبل بھی پاکستان روس سے خام تیل خرید چکا ہے، تاہم اب تک زیادہ تر انحصار سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر کیا جاتا رہا ہے۔ اس پس منظر میں روس کی جانب سے تیل کی فراہمی کی یہ خبر یقیناً خوش آئند ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ اس سے پٹرول کی قیمتوں میں کسی حد تک استحکام آئے گا اور مہنگائی کے دباؤ میں بھی کمی ہو سکے گی۔

دوسری جانب پاکستان بزنس کونسل نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہر 10 فیصد اضافہ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر تک اضافہ کر دیتا ہے۔ یہ بھی ایک اہم معاشی حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ کورونا کے دور میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 114 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی تو پاکستان میں پٹرول فی لیٹر 168 روپے میں دستیاب تھا۔ لیکن موجودہ جنگی صورتحال میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تقریباً 93 ڈالر فی بیرل ہے تو پاکستان میں پٹرول کی قیمت 321 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ فرق بظاہر سمجھ سے بالاتر دکھائی دیتا ہے اور اس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیرِ پٹرولیم پرویز ملک نے اس حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے اسی رفتار کے ساتھ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی بھی کی جائے گی اور قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لیا جائے گا۔ ان کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مجبوری کے تحت کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے ممکنہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے تیل کے ذخائر میں اضافہ کر لیا تھا۔ آبنائے ہرمز کا راستہ متاثر ہونے کے بعد سعودی عرب کی دیگر بندرگاہوں سے تیل درآمد کیا جا رہا ہے جبکہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے دو جہاز بھی سعودی عرب کے متبادل راستوں سے تیل پاکستان لا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ سعودی آرامکو نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر پاکستان بڑا بحری جہاز بھیجے تو اس کے ذریعے بھی تیل کی فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

ان تمام حالات کے تناظر میں ضروری ہے کہ حکومت، تاجر برادری اور متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کریں تاکہ مہنگائی کے اس سیلاب کو روک کر عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔


© Daily Urdu