Ghaza Aman Mansuba Aur Israel Ki Taza Karwai |
گزشتہ روز ہفتہ، اکتیس جنوری کو اسرائیل نے غزہ کے علاقے خان یونس میں قائم ایک پناہ گزین مرکز پر وحشیانہ حملہ کرکے بچوں اور خواتین سمیت تیس سے زائد بے گناہ فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ غزہ آج بھی دنیا کے بدترین انسانی المیوں میں گھرا ہوا ہے، جہاں نہتے شہری مسلسل اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس افسوسناک حملے کے بعد پاکستان، سعودی عرب، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، ترکی اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک نے اسرائیلی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہی ہیں بلکہ امن و استحکام کے لیے کی جانے والی عالمی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔ بیان میں اس امر پرشدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب علاقائی اور عالمی فریقین سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 پر عمل درآمد کے لیے مشترکہ طور پر کوششیں کر رہے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ فائر بندی کی مسلسل اور کھلی خلاف ورزیاں سیاسی عمل کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکی ہیں اور غزہ میں سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ وہاں کے بگڑتے ہوئے انسانی........