?Kafir Kot Ki Gumshuda Awaz |
تاریخ لکھنا بذاتِ خود ایک کٹھن اور ذمہ دارانہ عمل ہے اور جب بات حقائق پر مبنی تاریخ کی ہو تو یہ کٹھنائی مزید بڑھ جاتی ہے۔ کسی بھی عہد کی سچی تاریخ تک رسائی کے لیے محض تواریخی متون کا مطالعہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ ادب خصوصاً شاعری، ناول اور افسانہ ایک ناگزیر ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مروجہ تاریخ عموماً محلات، فتوحات اور اقتدار کے گرد گھومتی ہے، جب کہ عام انسان، مظلوم رعایا، بیوائیں، یتیم اور جبر سہنے والے افراد تاریخ کے حاشیے پر دھکیل دیے جاتے ہیں۔
مورخ اکثر وہی کچھ رقم کرتا ہے جو بادشاہِ وقت یا مقتدر طبقے کے لیے قابلِ قبول ہو۔ یہاں مورخ کی نیت پر سوال اٹھانا مقصود نہیں، بلکہ اُس معاشی اور سماجی جبر کی نشاندہی مقصود ہے جس کے تحت تاریخ لکھی جاتی ہے۔ تاریخ نگاری کے لیے جس فکری آزادی اور معاشی بے نیازی کی ضرورت ہوتی ہے، وہ عملی زندگی میں شاذ و نادر ہی میسر آتی ہے۔ فکرِ معاش انسان کو مصلحت کا اسیر بنا دیتی ہے۔ اس کے برعکس تخلیق کار عموماً دربار سے وابستہ نہیں ہوتا، اِسی لیے وہ اپنی آنکھ سے دیکھا ہوا سچ........