menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qurbani Zaroor Kijye Magar?

14 0
25.05.2026

قربانی ضرور کیجیے مگر؟

ذوالحجہ کے مبارک اور بابرکت دن چل رہے ہیں۔ یہ وہ دن ہیں جن کے بارے میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو ان دنوں کے نیک اعمال سب دنوں سے زیادہ محبوب ہیں۔ یہاں تک کہ ان دس دنوں کی فضیلت رمضان المبارک کے عام دنوں سے بھی بڑھ کر بیان کی گئی۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں ان کی اصل روح اور اہمیت سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ اکثر لوگوں کے نزدیک ذوالحجہ کا مطلب صرف جانور خریدنا، تصاویر لگانا اور گوشت محفوظ کرنا رہ گیا ہے، جبکہ اصل پیغام کہیں پیچھے رہ گیا۔

حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی اطاعت، فرمانبرداری اور قربانی کی عملی تفسیر ہے۔ قربانی صرف ایک جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس، اپنی خواہشات اور اپنی انا کو اللہ کے حکم کے آگے قربان کرنے کا نام ہے۔ یہی اصل مضمون ہے، یہی اصل سبق ہے اور یہی وہ پیغام ہے جو آج ہم بھول چکے ہیں۔

حضرت ابراہیمؑ جب نوجوان تھے تو انہوں نے اپنی قوم کے باطل عقائد کے خلاف آواز بلند کی۔ پوری قوم بتوں کے سامنے جھکتی تھی مگر ابراہیمؑ نے اعلان کردیا کہ میرا رب صرف ایک اللہ ہے۔ آج اگر کوئی نوجوان دین کی بات کرے، نماز کی پابندی کرے یا سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرے تو فوراً اس پر فقرے کسے جاتے ہیں: "بڑا مولوی بن گیا ہے!" "ابھی سے اتنی دینداری کیوں؟"

مگر ابراہیمؑ نے لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہیں کی۔ بادشاہِ وقت نمرود کے سامنے بھی حق بات کہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آگ تیار کردی گئی۔ ایسی آگ کہ پرندہ اوپر سے گزرتا تو جل جاتا، مگر جب اللہ کے فرمانبردار ابراہیمؑ........

© Daily Urdu