Muzakarat Ki Mez |
تاریخ کے اوراق جب کھولے جاتے ہیں تو بعض منظر ایسے ہوتے ہیں جو محض واقعات نہیں ہوتے بلکہ آنے والے زمانوں کے لیے وارننگ بن جاتے ہیں۔ ستمبر 1938ء کی ایک ٹھنڈی شام تھی۔ یورپ کے طاقتور رہنما نیول چیمبرلین، ایڈولف ہٹلر، بینیتو مسولینی اور ایڈوارڈ ڈالاڈیئر جرمنی کے شہر میونخ میں ایک میز پر بیٹھے تھے۔ دنیا سانس روکے دیکھ رہی تھی۔ مسئلہ چیکوسلواکیہ کا تھا، خاص طور پر اس کا خطہ سوڈیٹن لینڈ، جس پر ہٹلر دعویٰ کر رہا تھا۔ یہ مذاکرات میونخ معاہدہ کے نام سے تاریخ میں محفوظ ہو گئے۔
برطانیہ اور فرانس نے جنگ سے بچنے کے لیے ہٹلر کو رعایت دینے کا فیصلہ کیا۔ کاغذ پر دستخط ہوئے، کیمرے چمکے اور نیول چیمبرلین نے واپسی پر اعلان کیا: "امن ہمارے وقت کے لیے"۔ لیکن حقیقت اس جملے سے کہیں زیادہ تلخ تھی۔ چند ہی مہینوں بعد ہٹلر نے نہ صرف پورا چیکوسلواکیہ ہڑپ کر لیا بلکہ اس کے بعد دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہوگیا۔ کروڑوں انسان مارے گئے، شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے اور دنیا نے جان لیا کہ کمزور مذاکرات اور وقتی سمجھوتے مستقل امن نہیں لا سکتے۔ یہ تاریخ کا پہلا سبق تھا: ہر مذاکرات امن نہیں لاتے، بعض اوقات وہ جنگ کو صرف مؤخر کرتے ہیں اور زیادہ خطرناک بنا دیتے ہیں۔
اب ذرا وقت کا پہیہ آگے گھمائیں۔
سن 2000ء امریکہ کی ریاست میری لینڈ میں واقع ایک پرسکون مقام کیمپ ڈیوڈ۔ یہاں دنیا کی نظریں ایک بار پھر جمی ہوئی تھیں۔ اس بار فریق تھے اسرائیل اور فلسطین۔ میزبان تھے بل کلنٹن، جبکہ ایک طرف یاسر عرفات بیٹھے تھے اور دوسری طرف ایہود باراک۔ یہ تھے کیمپ ڈیوڈ سربراہی اجلاس۔ دنیا کو امید تھی کہ دہائیوں پرانا تنازع ختم ہو جائے گا۔ کئی دن تک بات چیت جاری رہی، نقشے بنے، تجاویز آئیں، لیکن آخرکار مذاکرات ناکام ہو گئے۔ کوئی معاہدہ نہ ہو سکا اور پھر وہی ہوا جس کا خوف تھا۔ چند ہی ماہ بعد دوسری انتفاضہ شروع ہوگئی۔ سڑکیں خون سے بھر گئیں،........