Zaheen Talib e Ilm

شام کا دھندلکا ابھی پوری طرح نہیں اترا تھا۔ گورنمنٹ ایلیمنٹری اسکول ترگڑی کے صحن میں سفیدے کے درخت کے نیچے چند لڑکے بستے گود میں رکھے بیٹھے تھے۔ اسکول میں امتحان چل رہے تھے۔ اس لئے زیادہ ترطالب علم امتحان کے بعد گھروں کو جا چکے تھے۔ اسٹاف روم کی کھڑکی سے پرانے پنکھے کی چرچراہٹ سنائی دے رہی تھی، جہاں اساتذہ اکرام امتحانی پرچے چیک کرنے مصروف تھے۔ میں اُس دن امتحانی ڈیوٹی سے فارغ ہو کر ذرا دیر کے لیے برآمدے میں رک گیا۔ ایک دبلا سا لڑکا، شاید آٹھویں جماعت کا، اپنی کاپی بند کیے چپ چاپ زمین کرید رہا تھا۔ میں نے پاس جا کر پوچھا، "کیا ہوا؟ پرچہ خراب ہوا؟" اُس نے سر اٹھایا، ہلکا سا مسکرایا، پھر بولا، "سر، پرچہ تو ٹھیک تھا، بس میں ذہین نہیں ہوں۔ مجھے سب چیزیں دیر سے سمجھ آتی ہیں"۔

یہ ایک جملہ نہیں تھا، اس کی اپنی ذات کے بارے بنائی گئی تصویر تھی۔ ہمارے ہاں کتنے ہی بچے، کتنے ہی نوجوان، کتنے ہی بڑے آدمی ایسی ہی تصویر لئے پھرتے ہیں اور اپنی قسمت کا فیصلہ یوں کرتے ہیں جیسے ذہن کوئی بند تالہ ہو جس کی چابی پیدائش کے دن ہی تقسیم ہو جاتی ہے۔ کسی کو زیادہ، کسی کو کم۔ پھر ہم ساری عمر اپنے بارے میں وہی فیصلہ اٹھائے پھرتے ہیں۔ "میں ریاضی میں کمزور ہوں"، "مجھے نام یاد نہیں رہتے"، "میرا دماغ کمزور ہے"۔ عجیب بات یہ ہے کہ انسان پہاڑ کاٹ کر سڑک بنا لیتا ہے مگر اپنے بارے میں ایک غلط خیال نہیں کاٹ پاتا۔

مجھے اپنے طالب علمی کے دن یاد آتے ہیں۔ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں ایک کمرہ تھا جس میں تین لڑکے رہتے تھے۔ ایک ہر وقت کتاب کھولے بیٹھا رہتا، دوسرا نوٹس سنوارتا، تیسرا بظاہر سب سے بےفکر تھا۔ مگر جب امتحان کا نتیجہ آتا تو سب سے آگے نکل جاتا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ رات بھر جاگ کر رٹّا نہیں لگاتا تھا، بلکہ تھوڑا پڑھتا، سوچتا، یادکرتا، پھر اگلے دن خود سے سوال پوچھتا۔ اُس وقت مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ صرف محنت سے دروازہ نہیں کھلتا، توازن بھی اہم ہے۔ بعض اوقات مسئلہ محنت کی کمی نہیں، بدنظمیِ ہوتا ہے۔

ہمارا زمانہ ایک عجیب سہولت کا زمانہ ہے۔ جیب میں رکھا چھوٹا سا آلہ ہمیں بتا دیتا ہے کہ قسطنطنیہ کب فتح ہوا، دریائے سندھ کتنا لمبا ہے، یا فلاں شاعر کا شعر کیا ہے۔ مگر یہی سہولت آہستہ آہستہ ذہن کے پٹھوں کو سست بھی کر دیتی ہے۔ جیسے گھر کے سارے کام مشینیں کرنے لگیں تو ہاتھ نرم پڑ جاتے ہیں، ویسے ہی یادداشت اور توجہ بھی مسلسل سہولت سے کمزور پڑ جاتی ہے۔ میں نے کئی بار کلاس میں دیکھا ہے کہ طالب علم سوال سنتے ہی جواب سوچنے کے بجائے فوراً موبائل کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے۔ گویا ذہن اب پہلا دروازہ نہیں رہا، آخری بہانہ بن گیا ہے۔

میں ٹیکنالوجی کا مخالف نہیں۔ آخر میرا اپنا شعبہ تعلیم اور جدید ذرائع سے جڑا ہے۔ آج دنیا مصنوعی ذہانت کے ایک نئے عہد میں داخل ہو چکی ہے۔ مشینیں لکھ رہی ہیں، ترجمے کر رہی ہیں، سوالوں کے جواب دے رہی ہیں اور انسان حیران ہے کہ اب اُس کا اصل کام کیا رہ گیا۔ مگر شاید یہی وقت ہے جب ہمیں اپنے ذہن کی اصل قدر سمجھنی چاہیے۔ مشین جواب دے سکتی ہے، مگر سوال کی نوعیت انسان طے کرتا ہے۔ آلہ معلومات لا سکتا ہے، مگر حکمت دل اور دماغ کے اس ملاپ سے پیدا ہوتی ہے جسے نہ بازار میں خریدا جا سکتا ہے نہ کسی پردے پر ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔

میرے ایک استاد کہا کرتے تھے، "بیٹا، دماغ کھیت کی طرح ہے، بنجر نہیں ہوتا، بس بےتوجہی سے سوکھ جاتا ہے"۔ اُس وقت یہ جملہ اچھا لگتا تھا، آج سچا لگتا ہے۔ میں نے بچوں میں اپنی ذات بارے منفی تصور توڑ کر یہ تبدیلی بارہا دیکھی ہے۔ جو بچہ کل تک ایک صفحہ پڑھ کر ہانپ جاتا تھا، وہی چند مہینوں بعد پوری کتاب کا خلاصہ لکھ دیتا ہے۔ جو طالبہ اپنی آواز سے خوف کھاتی تھی، وہی سیمینار میں سب سے واضح بات کرتی ہے۔ انسان جب اپنے بارے میں یہ ماننا چھوڑ دیتا ہے کہ "میں ایسا ہی ہوں "، تب اصل سفر شروع ہوتا ہے۔

لیکن یہاں ایک اور بھید ہے۔ سیکھنے کا تعلق صرف کتاب سے نہیں، کیفیت سے بھی ہے۔ بےنیند، بےترتیب، بکھرا ہوا آدمی علم کو پکڑ نہیں سکتا۔ ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ رات بھر جاگنا محنت کی نشانی ہے۔ حالانکہ کئی بار یہ بےسمتی کی علامت ہوتی ہے۔ میں نے امتحان کے دنوں میں نوجوانوں کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے دیکھے ہیں، ہاتھ میں چائے کا کپ، دل میں گھبراہٹ اور زبان پر یہ جملہ کہ "ابھی بہت کچھ رہ گیا ہے"۔ حالانکہ ذہن پر بھروسہ کرنے کے لیے پہلے جسم پر رحم کرنا پڑتا ہے۔ مناسب نیند، سادہ غذا، تھوڑی سی چہل قدمی اور کچھ لمحے خاموشی کے، یہ سب عیاشی نہیں، اپنی ذات کے ساتھ انصاف پسندی ہے۔ آج جب ہر طرف شور ہے، توجہ ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے اور ایک منٹ کی خاموشی بھی دشوار لگتی ہے۔

اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ بچوں میں پڑھائی کا شوق کیسے پیدا ہو۔ میں کہتا ہوں، پڑھنے کا شوق ڈانٹ سے نہیں، معنی سے پیدا ہوتا ہے۔ جب طالب علم کو یہ سمجھ آ جائے کہ وہ کیوں پڑھ رہا ہے، تب راستہ کچھ آسان ہو جاتا ہے۔ محض نمبر، نوکری، مقابلہ، یہ کمزور سہارے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ تم علم کی روشنی کیوں حاصل کرنا چاہتے ہو؟ اپنے بوڑھے والدین کے لیے؟ اپنے گاؤں کی پہلی لائبریری کے لیے؟ اپنے بچوں کے بہتر کل کے لیے؟ یا اپنے اندر سوئے ہوئے اُس انسان کے لیے جو ابھی پوری طرح جاگا نہیں؟ نیت میں وسعت آ جائے تو قدم میں طاقت آ جاتی ہے۔

حضرت علیؓ کا قول ہے کہ انسان کی قیمت وہ ہے جو وہ خوبصورتی سے کر گزرے۔ میں اس قول کو تعلیم کے میدان میں یوں سمجھتا ہوں کہ آدمی کی قدر صرف اس کے نمبر نہیں بتاتے، بلکہ اس عمل میں ہے، کہ وہ سیکھے ہوئے علم کو اپنے اخلاق، اپنے فیصلوں اور اپنے ظرف میں کیسے ڈھالتا ہے۔ ذہانت صرف تیز جواب دینے کا نام نہیں، درست سوال اٹھانے کا سلیقہ بھی ہے۔

مجھے اقبال کا ایک مصرع بےاختیار یاد آتا ہے: نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

یہ مصرع صرف قوموں کے لیے نہیں، ہر اُس فرد کے لیے ہے جو اپنی منفی تصویر گلے لگائے اپنی سیکھنے کی صلاحیت کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ آپ کا ذہن تھکا ہوا ہو سکتا ہے۔ کمزور نہیں، الجھا ہوا ہو سکتا ہے۔ سست نہیں، غلط بوجھ تلے دبا ہوا ہو سکتا ہے۔ فرق بہت بڑا ہے۔ ٹوٹی چیز پھینک دی جاتی ہے، تھکی چیز کو آرام، ترتیب اور رفاقت دی جاتی ہے۔

آج کل میں نے اپنے لیے ایک چھوٹی سی عادت بنائی ہے۔ دن کا کچھ حصہ ایسا رکھتا ہوں جب موبائل اور لیپ ٹاپ پاس نہیں ہوتا۔ نہ پیغام، نہ شور، نہ اسکرین۔ بس ایک کتاب، ایک قلم اور اپنی سانس کی آواز۔ شروع شروع میں یہ خالی پن لگتا تھا، اب یہی میرے ذہن کی آب پاشی ہے۔ ہم سب کو اپنے دن میں ایسے چھوٹے جزیرے چاہیے جہاں ذہن کنارے لگ سکے۔ ورنہ معلومات کی موجیں انسان کو دانش مند نہیں، صرف تھکا ہوا بنا دیتی ہیں۔

اور ہاں، زندگی میں ایک "نہ کرنے" کی فہرست بھی ہونی چاہیے۔ ہر کام ضروری نہیں ہوتا، ہر مصروفیت مفید نہیں ہوتی، ہر دعوت قبول کرنا شرافت نہیں ہوتی اور ہر جواب فوراً دینا دانائی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات علم بڑھانے کے لیے پہلے شور گھٹانا پڑتا ہے۔ ذہن کو وسعت دینے کے لیے پہلے اس کے دروازے پر پہرہ بٹھانا پڑتا ہے۔


© Daily Urdu