La Hasil Se Hasil Tak |
کبھی کبھی انسان اپنی زندگی کو یوں دیکھتا ہے جیسے رمضان کے آخری عشرے میں بازاروں کی روشنیاں دیکھ کر گھر لوٹتی ہوئی وہ بچی، جس کے ہاتھ میں ایک سادہ سا جوڑا ہو مگر دل اُن کپڑوں میں اٹکا رہ جائے جو شیشوں کے پیچھے ٹنگے تھے۔ اُس کے پاس بھی کچھ ہے، مگر نظر اُس پر نہیں جاتی۔ نظر اُس پر جاتی ہے جو نہیں ملا۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں دل میں خلا پیدا ہوتا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ خلا حقیقت سے زیادہ تصور کا پیدا کیا ہوا ہوتا ہے۔
اس کتاب کا حاصل بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ انسان دو طریقوں سے اپنی زندگی ناپتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اپنے سامنے ایک خیالی کمال رکھ لیتا ہے، ایک ایسی چوٹی جو ہر قدم کے بعد اور........