menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Salamati Council Mein Pukar, Androon e Khana Khkamoshi

10 3
05.02.2026

سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کی جانب سے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ محض ایک سفارتی قدم نہیں، بلکہ یہ اس تلخ حقیقت کا اعتراف بھی ہے کہ دہشت گردی آج بھی پاکستان کی سلامتی، معیشت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے دہشت گردی سے عالمی امن کو لاحق خطرات پر اپنے خطاب میں واضح کیا کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور کالعدم بی ایل اے نے دوبارہ منظم ہو کر سر اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق یہ گروہ افغان سرزمین سے تقریباً مکمل استثنیٰ کے ساتھ کارروائیاں کرتے ہوئے پاکستان کے اندر سنگین اور سفاک دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار ہیں۔

اسی تناظر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایسے میں سلامتی کونسل سے بی ایل اے کو عالمی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ نہ صرف منطقی بلکہ ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔ تاہم، اس درخواست کے دور رس سفارتی اور سیاسی نتائج بھی ہوں گے۔ خاص طور پر سلامتی کونسل کے........

© Daily Urdu