Maj Vech Ke Ghori Layi
باغوں کا شہر لاہور آج زہریلی فضا، دھویں اور سموگ کے نرغے میں ہے۔ ہم نے درخت کاٹے، باغات اجاڑے، کھیتوں کو ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں بدلا اور پھر حیران ہیں کہ ہمارے شہر سانس کیوں نہیں لے پا رہے۔ المیہ یہ ہے کہ تباہی کا سامان بھی ہم نے خود کیا اور اب اس کا ماتم بھی خود ہی کر رہے ہیں۔ ایک پنجابی کہاوت ہے: "مج ویچ کے گھوڑی لئی، دودھ پین توں گئے، لدھ چُکنی پئی!" یعنی گائے بھینس پالنے سے اس لیے کتراتے رہے کہ ان کے گوبر سے بدبو آتی تھی، لیکن شوق کی خاطر ایسے جانور پال لیے جن سے نہ دودھ حاصل ہوتا ہے نہ کوئی فائدہ، الٹا ان کی گندگی اٹھانے کی نوبت آگئی۔
آج ہمارے شہروں کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ہم نے فطرت کی نعمتوں کو ٹھکرا کر مصنوعی ترقی کا راستہ اختیار کیا اور اب اسی ترقی کی گندگی اٹھاتے پھر رہے ہیں۔ 5 نومبر 2026ء کو سامنے آنے والے اعداد و شمار نے ایک مرتبہ پھر ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی مواد فراہم کیا۔ عالمی فضائی معیار کی ویب سائٹ ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہا، جہاں فضائی آلودگی کا اشاریہ 352 ریکارڈ کیا گیا۔ کراچی بھی چھٹے نمبر پر رہا۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں، ہمارے اجتماعی شعور، حکومتی کارکردگی اور........
