Iran-America Kasheedgi, Maslak Ya Ummat?

قرآن مجید ہمیں صاف اور دو ٹوک حکم دیتا ہے: (اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو)۔ مگر افسوس کہ عالمِ اسلام صدیوں سے اسی حکمِ الٰہی کی کھلم کھلا نافرمانی کرتا چلا آ رہا ہے۔ ہم نے اللہ کی رسی کو چھوڑ کر مسلک، گروہ، قومیت اور فرقے کو اپنا سہارا بنا لیا اور یہی ہماری ذلت، کمزوری اور غلامی کی سب سے بڑی وجہ بن گئی۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں کہ امتِ مسلمہ کی تباہی کا آغاز تلواروں سے نہیں بلکہ دلوں میں پیدا ہونے والی نفرت سے ہوا۔ شیعہ سنی اختلافات ہوں یا دیگر فقہی و فروعی مسائل، ان اختلافات کو ہم نے اس حد تک بڑھایا کہ بھائی، بھائی کا دشمن بن گیا۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا: (مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے تنہا چھوڑتا ہے، نہ حقیر سمجھتا ہے)۔

یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ شیعہ سنی اختلافات کی ابتدا سیاسی معاملات سے ہوئی تھی، نہ کہ عقائد اور عبادات سے۔ مگر ہم نے تاریخ سے سیکھنے کی بجائے انہی اختلافات کو نفرت، تکفیر اور قتل و غارت کا ذریعہ بنا لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان، مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے لگے۔ آج اگر ہم دیانتداری سے حساب لگائیں تو یہ کہنا پڑے گا کہ جتنا خون مسلمانوں نے ایک دوسرے کا بہایا، شاید ہی کسی غیر مسلم قوم نے........

© Daily Urdu