Qaumi Salamati Ka Fikri Irtiqa
قومی سلامتی کا فکری و عسکری ارتقا
ریاست اور معاشرے کی بنیادوں کو اندر سے کھوکھلا کرنے والے ناسور یعنی دہشت گردی کو محض چند دھماکوں، گولیوں کی آوازوں یا خونچکاں اعداد و شمار تک محدود کرکے دیکھنا اس پیچیدہ بحران کی انتہائی سطحی اور ناپختہ تفہیم ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مہیب فتنہ کی اصل آبیاری اس خاموش اور زرخیز فکری ماحول میں ہوتی ہے جہاں نفرت کو ایک باقاعدہ نظریہ، تشدد کو جائز سیاسی یا سماجی ہتھکنڈا، جرائم کو وسائل کا ذریعہ اور خوف کو نفسیاتی ہتھیار بنا کر ایک ایسا منظم اور مکارانہ ڈھانچہ تشکیل دیا جاتا ہے جو اجتماعی شیرازے کو پارہ پارہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ سلامتی کے منظرنامے نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو عیاں کیا ہے کہ جدید دور کا یہ عسکری و فکری بحران جغرافیائی سیاست کی تلخیوں، سرحدی پیچیدگیوں، نظریاتی انتہاپسندی، معاشی کمزوریوں، حکمرانی کے خول، سیاسی عدم اعتماد اور جدید ابلاغی آلات کے باہمی تعامل سے جنم لیتا ہے، جس سے نبردآزما ہونے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر ایک انقلابی فکری زاویہ اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔
ستمبر 2026 کے ہنگامہ خیز اور چشم کشا واقعات نے اس کثیرالجہتی صورتِ حال کے کئی نئے اور مخفی گوشوں کو بے نقاب کیا۔ خیبر پختونخوا کے طول و عرض میں بالخصوص کوہاٹ پولیس لائنز اور ڈیرہ اسماعیل خان میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے ہولناک واقعات نے براہِ راست ریاستی سلامتی پر منڈلاتے خطرات کی شدت کو ایک بار پھر شدت سے اجاجر کیا، جبکہ دوسری طرف بلوچستان کے خطے میں مسلح عناصر کے خلاف برسرِ پیکار عسکری اداروں کی کارروائیوں اور مغوی شہریوں کی بازیابی نے اس ناسور کے اس بھیانک رخ کو بے نقاب کیا جہاں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ اغوا برائے تاوان، منظم بھتہ خوری اور خوف و ہراس کی ایک متوازی معیشت بھی پوری قوت سے پروان چڑھ رہی ہے۔ اس تمام کشمکش کے برعکس، پنجاب کے اندر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جانب سے کی جانے والی انٹیلی جنس بیسڈ (خفیہ اطلاعات پر مبنی) کارروائیاں اور بروقت مشتبہ عناصر کی گرفتاریاں اس امر کا بین ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ انسدادِ دہشت گردی کا سب سے زیادہ کامیاب، مؤثر اور کلیدی مرحلہ دراصل وہ ہوتا ہے جب ریاست کسی بھی صدمے یا نقصان سے پہلے ہی حملہ آور کے ارادوں اور اس کے آثار کو قبل از وقت پڑھ کر اسے ناکام بنا دیتی ہے۔ بلاشبہ ایک ناکام ہونے والا حملہ اخبارات کی بڑی سرخیوں کی زینت نہیں بنتا اور نہ ہی اس کے تذکرے کالموں........
