Mulla Nasiruddin Aur Na Ehal Gadhe |
ملا نصیر الدین اور نا اہل گدھے
ملا نصیر الدین تیرھویں صدی میں پیدا ہوئے، ترکی کے شہر اناطولیہ میں زندگی بسر کی اوروہیں مدفون ہوئے۔ ملا نصیر الدین نے دنیا کی ہر زبان اور ادب کو متاثر کیا، آپ دنیا کا کوئی بھی ادب اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو اس میں ملا نصیر الدین ہنستے مسکراتے نظر آئیں گے۔ ملا کا کمال ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک ان کی شہریت کا دعویٰ کرتے ہیں، افغانستان، ترکی، ایران ا ورازبکستان کا دعویٰ ہے کہ ملا نصیر الدین کا تعلق ان کے ملک سے تھا۔
شہریت کی طرح دنیا کے ہر ادب میں ملا کے نام بھی مختلف ہیں اور وہ تاریخی کتب میں مختلف ناموں سے مشہور ہیں۔ البانی زبان میں انہیں نسترادین، بوسنیائی زبان میں نصردین ہودزا، ازبک میں نصردین آفندی، قزاقی زبان میں حوزانصیر اور اردو ادب میں ملا نصیر الدین کے نام سے جانا جاتاہے۔ روس میں ملا سولویو کے ناول کی وجہ سے کافی مشہور ہیں اور بلغاریہ، مقدونیہ اور سسلی میں بھی ملا نصرالدین کا ڈنکا بجتا ہے۔ ملا کی خدمات کے اعتراف میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے 1996,1997 کو ملا نصیرالدین کا سال قرار دیاتھا۔ آج بھی دنیا کے ہر خطے میں ملا کے لطیفے اور چٹکلے زبان زد عام ہیں۔
چین میں ملا کے نام پر کئی کارٹون پرگرام، ڈرامے اور فلمیں بن چکی ہیں اورملا کی جائے پیدائش اسکسرمیں ہر سال پانچ سے دس جولائی تک "بین الاقوامی نصرالدین حوجا"میلہ منایا جاتا ہے۔ ملا کی وجہ شہرت ان کے حکمت سے بھرپور لطیفے ہیں، کوئی بھی لطیفہ یا کہاوت سیکڑوں سال کے تجربات کے بعد وجود میں آتی ہے۔ آج دنیا میں جتنے بھی لطیفے، کہاوتیں اور ضرب الامثال مشہور ہیں ان کے پیچھے کو ئی نہ کوئی کہانی، واقعہ یا سبق ضرور موجود........