Chote Madaris, Bare Kaam |
چک نمبر 36 ضلع بھکر کا ایک چھوٹا اور عام سا گاؤں ہے، یہاں بلندوبالا عمارتیں ہیں نہ وسیع بازار، ترقی کے شور شرابے ہیں نہ شہرت کے چرچے مگریہاں کی زرخیز زمین نے کئی نامور شخصیات کو جنم دیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے انسان ہمیشہ بڑے شہروں میں ہی پیدا نہیں ہوتے بلکہ کبھی کسی خاموش بستی، کسی مٹی کے صحن، کسی کچے کمرے اور کسی سادہ ماحول سے بھی ایسے چراغ روشن ہوتے ہیں جن کی روشنی ایک عالم کو منور کرتی ہے۔
تقسیمِ ہند کے بعد یہاں ایک چھوٹا سا دینی مدرسہ قائم ہوا جس کے روحِ رواں مولانا اللہ دتہ تھے۔ وہ علمِ صرف و نحو کے ماہر، فنونِ عربیہ کے شناور اورمیدان تدریس کے شاہ سوار تھے۔ ان کی شہرت پورے علاقے میں پھیلی ہوئی تھی اور لوگ دور دور سے علمی استفادے کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔ سن 1969 میں دو بھائی اس مدرسے میں حفظِ قرآن کے لیے داخل ہوئے۔ ان کے نام عبد الکریم اور عبد الرحیم تھے۔ یہ دونوں بچے اسی مدرسے کے ماحول میں پروان چڑھے، پہلے قرآنِ کریم حفظ کیا، پھر درسِ نظامی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔
انتہائی درجات کی کتب کی تدریس کا وہاں اہتمام نہیں تھا لہٰذا یہ دونوں بھائی لاہور شفٹ ہوگئے۔ ان میں سے چھوٹے بھائی کانام عبد الرحیم تھا جو آج مفتی عبد الرحیم کے نام سے معروف ہیں۔ مفتی عبد الرحیم کون ہیں اورآج یہ کیا خدمات سر انجام دے رہے ہیں یہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سردست یہ واقعہ نما حقیقت بتانے کا مقصد اس امر کی نشاندہی ہے کہ بڑے انسان ہمیشہ بڑے اداروں، بڑے شہروں، بڑے وسائل اور بڑے ناموں سے پیدا نہیں ہوتے بلکہ کبھی کبھار کسی گاؤں کے چھوٹے مدرسے سے بھی ایسا سفر شروع ہوتا ہے جو لاکھوں کروڑوں لوگوں کے لیے رہنمائی کا........