Malot Sattian Ka Masood

نہیں معلوم تھا، 1975 میں بچھڑنے والا وہ چمکتی آنکھوں والا مسکراتا چہرہ، تقریباً اکیاون سال بعد میری خدمت کرے گا اور ایسی بھرپور خدمت کرے گا کہ پانچ دہائیوں کی جدائی کا احساس ہی مٹ جائے گا۔

نٹ کھٹ، شرارتی آنکھوں والا، ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے والا ملوٹ ستیاں کا مسعود پرائمری اسکول تک میرے ساتھ رہا۔ ہر وقت اضطراری کیفیت میں مبتلا، پڑھائی میں ایوریج مگر کرکٹ کا دیوانہ۔ پھر راستے جدا ہو گئے، ہم اپنی اپنی جدوجہد میں مصروف ہوئے اور بچپن کی رفاقت وقت کی گرد میں کہیں دب گئی، مگر مسعود کا چہرہ اور اس کی کرکٹ کہانی میری یادوں میں ہمیشہ قائم رہی۔ مسعود میرا گرائیں تھا، مری کے ملحقہ علاقے ملوٹ ستیاں سے اور سابق ہیڈ ماسٹر سکول نمبر 8، اسلام آباد مرزا مبارک مرحوم اس کے والد تھے، جو اپنے بیٹے کے کرکٹ کھیلنے کے سخت خلاف ہوتے تھے۔

مسعود کو کرکٹ سے شغف تو تھا مگر اُس زمانے میں مجھے اندازہ نہ تھا کہ وہ والد کی مخالفت کے باوجود آگے چل کر اعلیٰ درجے کی کرکٹ تک پہنچ جائے گا۔ اس نے محنت کا دامن نہ چھوڑا، کاؤنٹی کرکٹ کھیلی، لندن میں میچز کھیلے اور وہاں اس کی ملاقاتیں بڑے کھلاڑیوں سے ہوئیں، جن میں Ian Botham بھی شامل تھا۔ پرانے انگریز کوچز کے ساتھ اس کے تعلقات بنے اور یوں اس نے اپنے ہنر کو مزید نکھارا۔ بالآخر اسے لندن میں ورک پرمٹ ملا اور وہ انیس سو نوے کی دہائی میں لندن مستقل آن بسا، جہاں اس نے شروع کےچند سال گزارے۔

پھر اس کی زندگی نے ایک نیا رخ لیا........

© Daily Urdu