Talaq |
طلاق کے لفظی معنی کسی کو بندش سے آزاد کرنے کے ہیں شریعت کی اصطلاح میں طلاق سے مراد وہ علیحدگی ہے جس کا مرد کو حق دیا گیا ہے۔ مرد اپنے حق میں آزاد ہے وہ جب چاہے وہ اپنے حقوق زوجیت سے دستبردار ہو سکتا ہے جس کو اس نے مہر کے عوض حاصل کیا تھا۔ عقد نکاح ایک ایسا معاہدہ ہوتا ہے جس کی روح سے دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق واجب ہو جاتے ہیں وہ ایک دوسرے کی اخلاقی اور معاشرتی قید و بند میں جکڑے جاتے ہیں لیکن طلاق کے ذریعے مردکے حقوق بحیثیت خاوند اور عورت کے حقوق بیحثیت بیوی ساقط ہو جاتے ہیں۔
دنیا کے دوسرے بڑے بڑے مذاہب اور قوموں میں بڑی بڑی بے اعتدالیوں کو اسلام نے رد کرتے ہوئے بڑے اعتدال سے اس مسئلے کو حل کیا ہے۔ مرد اور عورت کے حقوق میں توازن قائم کیا جس کی مثال دوسرے کسی مذہب یا قوم کے قانون میں نہیں مل سکتی۔ ایک طرف تو وہ رشتہ نکاح کو مضبوط بنانا چاہتا ہے مگر نہ اتنا مضبوط جتنا ہندو و عیسائیت میں ہے کہ زوجین کتنی ہی شدید مصیبت میں ہوں بہر حال ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہوسکتے اور نہ اتناکمزور جتنا روس امریکہ اور مغرب کے اکثر ممالک میں ہے کہ ازدواجی تعلق میں سرے سے کوئی پائیداری ہی باقی نہیں اور رشتہ ازدواج کی کمزوری سے عائلی زندگی کا سارا نظام درہم برہم ہونے لگا ہے۔
اسلام نے انسانی فطرت کا بالکل صحیح اندازہ کرکے حکم دیا ہے کہ جب عائلی زندگی میں زوجین کے اختلافات کی خلیج اس قدر وسیع ہوجائے کہ اسے پر کرنا ناممکن ہو جائے تو اس........